خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 165

خطبات محمود جلد نمبر 39 165 $ 1958 مجھے یاد ہے ایک دفعہ ایک دوست نے مجھ سے کہا کہ آپ تو بڑے مزے کے لیڈر ہیں کہ سیکنڈ کلاس میں سفر کرتے ہیں۔گاندھی جی کو دیکھیے کہ وہ تھرڈ کلاس میں سفر کرتے ہیں۔میں نے کہا وہ چالیس کروڑ آدمیوں کے لیڈر ہیں اور جب وہ تھرڈ کلاس کے ڈبہ میں سفر کرنے کے لیے داخل ہوتے کی ہیں تو سب لوگ اُن کے احترام میں کمرہ سے باہر نکل جاتے ہیں۔تھرڈ کلاس کا کمرہ سیکنڈ کلاس کے کمرہ سے تین گنا بڑا ہوتا ہے۔لوگ اُن کا بستر کمرہ میں بچھا دیتے ہیں اور وہ آرام سے اپنے بستر پر لیٹ کی جاتے ہیں۔تم بھی میرے لیے کسی ایسے ہی تھرڈ کلاس کمرہ کا انتظام کرا دو تو میں بھی اُس میں سفر کرنے کی کے لیے تیار ہوں۔مگر میرے لیے یہ انتظام نہیں ہو سکتا کیونکہ میں چالیس کروڑ کا لیڈر نہیں بلکہ صرف چار پانچ لاکھ کا ہوں۔چنانچہ پارٹیشن سے پہلے جب میں گاندھی جی سے ملا تو وہ مجھے کہنے لگے کہ آب ہندو مسلمانوں میں سمجھوتا کرائیں کیونکہ آپ لیڈر ہیں۔میں نے کہا یہ تو ٹھیک ہے کہ میں لیڈر ہوں مگر سوال یہ ہے کہ میں کتنے آدمیوں کا لیڈر ہوں۔صرف چار پانچ لاکھ آدمی ایسا ہے جو مجھے اپنا لیڈر تسلیم کرتا ہے۔لیکن آپ کا احترام تو چالیس کروڑ باشندے کرتے ہیں۔پس آپ کی بات کا جو اثر ہوسکتا ہے وہ میری بات کا نہیں ہو سکتا۔اگر پچاس لاکھ کا بھی میں لیڈر ہوتا تب بھی آپ کا اتنی گنا زیادہ اثر ہوتا۔مگر اب تو آپ کا آٹھ سو گنا زیادہ اثر ہے۔اس لیے ہندو مسلم سمجھوتا کے لیے جو آپ کی کوششوں کا اثر ہو سکتا ہے وہ میری کوشش کا نہیں ہوسکتا۔چنانچہ آخر وہ مان گئے کہ یہ بات ٹھیک ہے۔تو گاندھی جی کا ان باتوں میں مقابلہ کرنا درست نہیں۔وہ اگر بیمار ہوتے تو وائسرائے کا پرائیویٹ سیکرٹری جو گورنر کے برابر ہوتا تھا وائسرائے کی طرف سے پھل اور تھے ان کے پاس لے جاتا تھا لیکن ہمیں سوائے پتھروں کے اور کیا ملتا ہے۔مسلمانوں میں سے صرف مولانا محمد علی صاحب جو ہر ایسے تھے جنہیں انگریزی حکومت کی عزت کی نگاہ سے دیکھتی تھی اور ان کا بڑا احترام کرتی تھی۔چنانچہ جب وہ کانگرس سے علیحدہ ہوئے اور بیمار ہو کر ہسپتال میں داخل ہوئے تو روزانہ ہسپتال میں وائسرائے کی طرف سے انہیں تحفہ کے طور پر پھل اور پھول جاتے تھے مگر باقی لوگ کال کوٹھڑیوں میں بندر کھے جاتے ہیں۔خود پنڈت نہرو کی بہن کے متعلق ایک کتاب میں میں نے پڑھا کہ جب اُن کو جیل کی کال کوٹھڑی میں بند کرنے کے لیے لے گئے تو ساٹھ ستر عورتیں اُن کے ساتھ اور بھی تھیں۔ان سب نے افسروں کا مقابلہ کیا اور ان سے جنگ کی اور آخر جیل خانہ کے افسروں نے انہیں کال کوٹھڑیوں میں سے نکال لیا۔یہ جرات آخر انہیں اسی