خطبات محمود (جلد 39) — Page 157
1958ء 157 خطبات محمود جلد نمبر 39 تم سے شادی کر دوں گا اور آدھا ملک تم کو دے دوں گا۔ تمہارا کام یہ ہے کہ تم کسی طرح مسلمانوں کو شکست دو۔ وہ ساٹھ ہزار کا لشکر لے کر نکلا۔ اُس زمانہ کا ساٹھ ہزار آجکل کے ساٹھ لاکھ کے برابر تھا اور مسلمان گل بارہ ہزار تھے۔ وہ بڑے گھبرائے کہ ہم اتنے بڑے لشکر کا کس طرح مقابلہ کریں گے۔ حضرت ابو عبیدہ نے خالد بن ولید کو بلوایا اور کہا کہ ہم کل اس لشکر پر حملہ کرنا چاہتے ہیں ۔ تم ا ۔ اندازہ لگاؤ کہ ہم اس کے مقابلہ میں کتنے ہزار آدمی بھجوائیں۔ انہوں نے کہا حضور ! یہ کیا کر رہے ہیں؟ اس طرح تو دشمن دلیر ہو جائے گا اور سمجھے گا کہ میری بڑی طاقت ہے۔ آپ ساٹھ ہزار کے مقابلے میں صرف ساٹھ آدمی بھجوائیے اور مجھے اجازت دیجیے کہ میں اپنی خواہش کے مطابق اُن میں سے ساٹھ آدمی چن لوں ۔ حضرت ابو عبیدہ نے اس کی اجازت دے دی اور انہوں نے ساٹھ بہادر مسلمان چن لیے اور اُن یب کو کہ دیا کہ دیکھو تمہاری موت کے ساتھ اسلام کی وابستہ ہے۔ تم پر کی سب کو کہہ دیا کہ دیکھو! تمہاری موت کے ساتھ اس وقت اسلام کی زندگی وابستہ ہے۔ تم تیر کی طرح دشمن کی فوجوں میں بھس جاؤ اور ہامان جس ہاتھی پر سوار ہے اُس پر حملہ کر کے ہامان کو گرا دو ۔ جب کمانڈر انچیف مارا گیا تو باقی فوج خود بخود پیچھے ہٹ جائے گی۔ چنانچہ وہ تیر کی طرح فوجوں میں گھس گئے اور انہوں نے اُس ہاتھی پر حملہ کر دیا جس پر ہامان سوار تھا اور اُسے مارا سے مار کر گرادیا۔ بیشک اس حملہ کے نتیجہ میں مسلمانوں کے بارہ تیرہ آدمی میدانِ جنگ میں ہی مارے گئے اور قریباً ہمیں آدمی ایسے خطرناک زخمی ہوئے کہ جنگ کے خاتمہ پر اُن میں سے بھی اکثر شہید ہو گئے مگر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کفار کا لشکر بھاگا اور دوسومیل پیچھے جا کر اُس نے دم لیا۔ اس جنگ میں حضرت عکرمہ جو ابو جہل کے بیٹے تھے مارے گئے اور اس جنگ میں حضرت فضل جو عبد اللہ بن عباس کے بڑے بھائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چا کے بیٹے تھے مارے گئے ۔ تاریخ میں لکھا ہے کہ جنگ کے بعد ایک مسلمان سپاہی اپنی چھاگل میں پانی بھر کر ان زخمی صحابہ کے پاس پہنچا۔ اس نے دیکھا کہ حضرت عکرمہ کی حالت بڑی نازک ہے اور پیاس کی شدت کی وجہ سے وہ اپنے ہونٹوں پر زبان پھیر رہے ہیں۔ وہ کہتا ہے میں آگے بڑھا اور میں نے کہا آپ کو سخت پیاس محسوس ہو رہی ہے میرے پاس پانی موجود ہے آپ کچھ پانی پی لیں تا کہ آپ کو سکون محسوس ہو۔ انہوں نے کہا میں تو بہت بعد میں اسلام لایا ہوں۔ میرے ساتھ ہی ایک ایسا مسلمان زخموں سے چور پڑا ہے جو مجھ سے پہلے اسلام میں داخل ہوا تھا۔ اس لیے پہلے اسے پانی پلاؤ اور پھر میرے پاس آؤ۔ جب وہ پانی لے کر اُس کے پاس پہنچا تو