خطبات محمود (جلد 39) — Page 140
$ 1958 140 خطبات محمود جلد نمبر 39 خدا تعالیٰ کے احکام کی اطاعت بھی کرتا ہے اور اُس کی غلامی کا جو اپنی گردن پر پوری طرح رکھتا ہے۔اگر وہ خدا تعالیٰ کے احکام کی اطاعت نہیں کرتا تو چاہے وہ دس ہزار دفعہ کلمہ پڑھے وہ یزید کا یزید اور ابو جہل کا ابو جہل رہتا ہے اور چاہے دس ہزار دفعہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا رہے خدا تعالیٰ کے نزدیک اس کا یہ دعوی ایک رائی کے برابر بھی قیمت نہیں رکھتا۔صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کی کامل اطاعت اور کامل فرمانبرداری ہی ایک ایسی چیز ہے جو انسان کو سچا مومن بناتی ہے ور نہ وہ اگر دس کروڑ دفعہ بھی کلمہ پڑھ کر اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے تو وہ کذاب اور جھوٹا ہے۔ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ اسی حقیقت کا اظہار کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ تُقْبَلَ مِنْهُ 2 یعنی کامل فرمانبرداری اور اطاعت کے سوا اگر کوئی اور طریق اختیار کرے تو اسے کسی صورت میں بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔پس صرف منہ سے مسلمان کہنایا ای احمدی کہلا لینا کسی کو فائدہ نہیں دے سکتا جب تک کامل فرمانبرداری اور اطاعت کا نمونہ نہ دکھایا جائے۔میں دیکھتا ہوں کہ اکثر احمدی چندہ تو دینے لگ گئے ہیں اور ان کا ایک معتد بہ حصہ نمازیں بھی با قاعدہ پڑھتا ہے لیکن جب سے پاکستان بنا ہے بعض احمد یوں میں سے پردہ اُٹھ گیا ہے اور زیادہ تر یہ نقص مالداروں میں پایا جاتا ہے۔مجھے تعجب آتا ہے کہ یہ بے غیرت اور بزدل لوگ جنہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہیں مانی انہوں نے اپنی قوم کی کیا خدمت کرنی ہے۔قوم کی خدمت کرنے والے تو وہ لوگ تھے جنہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا ایسا شاندار نمونہ دکھایا کہ آج بھی تاریخ کے صفحات میں اُن کے واقعات پڑھ کر انسان کا دل محبت کے جذبات کے ساتھ لبریز ہو جاتا ہے۔ہر شخص جانتا ہے کہ عربوں میں پردہ کا کوئی رواج نہیں تھا بلکہ اسلام میں بھی شروع میں پردہ کا حکم نازل نہیں ہوا۔اُس زمانہ میں خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی پردہ ام نہیں کیا کرتی تھیں مگر جب پردہ کا حکم نازل ہو گیا تو ایک نوجوان نے اپنے رشتہ کے لیے ایک گھر پسند کیا۔باپ نے کہا مجھے تمہارا رشتہ منظور ہے، تم بڑے اچھے آدمی ہو، خوش شکل ہو اور اپنی روزی بھی کماتے ہو اس لیے مجھے تمہیں رشتہ دینے میں کوئی عذر نہیں۔اس نے کہا اگر آپ تیار ہیں تو پھر لڑ کی دکھا دیں۔بغیر دیکھنے کے میں کس طرح شادی کرلوں۔باپ کہنے لگا کہ میں لڑکی دکھانے کے لیے تیار نہیں۔وہ اُسی وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ !