خطبات محمود (جلد 39) — Page 113
113 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 خدائے واحد کی فتح ہے۔ہم تیرے آگے جھنڈ ا ڈالتے ہیں کیونکہ تو نے ہمیں ہدایت دی۔تو آگے اسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ڈال دے اور وہ آگے اسے خدا تعالیٰ کے حضور پیش کر دیں اور کہیں اے خدا! تو نے مجھے توحید کی اشاعت کے لیے دنیا میں بھیجا تھا۔میں نے وہ تو حید دنیا میں قائم کر دی اور پھر اس کے بعد میں نے تیری ہدایت اور تیرے دیئے ہوئے علم کے ماتحت ایک آنے والے موعود کی خبر دی جس نے اسلام کو ساری دنیا میں غالب کر دیا اب میں یہ اسلام کا جھنڈا تیری کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔یہ توحید کا تحفہ ہے۔یہ اس بات کی علامت ہے کہ جو کام تو نے ہمارے سپرد کیا تھا اُسے ہم نے پورا کر دیا ہے۔پس اس خوشی میں ہم یہ جھنڈا تیری خدمت میں پیش کرتے ہیں۔خدا کرے یہ مضمون ہمارے مبلغوں کے ذہن نشین ہو جائے اور وہ بھی جلدی جلدی کام کریں۔ان میں سے بعض سُست ہیں اور بعض پچست ہیں۔جو سُست ہیں اُن کو یاد رکھنا چاہیے کہ انہوں نے ایک دن مرنا ہے، قیامت کے دن ان کو کوئی عزت نہیں دی جائے گی لیکن جو چُست ہیں اور خدا تعالیٰ کی توحید کو دنیا میں پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں اُن کو یاد رکھنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ قیامت کی کے دن انہیں اپنے عرش کے دائیں طرف بٹھائے گا اور اُن سے وہی سلوک کرے گا جیسے باپ اپنے بیٹے سے کرتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کو اپنی توحید سے ویسی ہی محبت ہے جیسے باپ کو اپنے بیٹے سے ہوتی ہے۔پس جب وہ خدا تعالیٰ کی توحید کو دنیا میں پھیلائیں گے تو خدا تعالیٰ بھی ان سے ویسی ہی محبت کرے گا جیسے باپ اپنے بیٹے سے محبت کرتا ہے۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو فرمایا أَنتَ مِنِّى بِمَنْزِلَةِ تَوْحِيدِى وَتَفْرِيدِى 22 یعنی تو مجھے ایسا ہی پیارا ہے جیسے مجھے اپنی توحید اور تفرید پیاری ہے۔آخر ساری دنیا سے عیسائیت اور شرک کا مٹانا کتنا بڑا کام ہے۔وہ صحیح جسے عیسائیوں نے عرش پر بٹھا رکھا ہے اُسے زمین پر نیچے اُتار دینا معمولی آدمی کا کام نہیں تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عیسائیوں کے مصنوعی خدا کو عرش سے نیچے پھینک دیا اور اس کی اپنی قوم سے اقرار کروالیا کہ مسیح ناصری نیچے تھے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونچے تھے۔مجھے یاد ہے کہ جب مجھ پر بیماری کا حملہ ہوا اور میں علاج کی غرض سے لندن گیا تو ایک بہت بڑا مصنف ڈسمنڈ شامیرے پاس آیا اور اُس نے کہا شاید آپ مجھے پاگل قرار دیں گے کہ عیسائی ہوکر میں ایسی باتیں کرتا ہوں۔یہ ٹھیک ہے کہ میں عیسائی ہوں لیکن مجھے یقین ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی