خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 93

1958ء 93 خطبات محمود جلد نمبر 39 ہیں۔ جو بات ہم اپنے نفس سے بھی نہیں منوا سکتے وہ دوسروں سے کیسے منوا سکتے ہیں۔ پس سب سے پہلے اپنے اندر سنجیدگی پیدا کرو۔ پھر دوسروں کی فطرت سے اپیل کرو بلکہ اپنے اندر سنجیدگی پیدا کرنا خود دوسروں سے اپیل کے مترادف ہوگا۔ تمہارے ارد گرد بسنے والے جب دیکھیں گے کہ ہم اسلامی تعلیم پر عمل نہیں کرتے مگر یہ لوگ کرتے ہیں اور تکلیف اُٹھانے کے باوجود کرتے ہیں تو اُن پر وہی اثر ہونا لازمی ہے جو حضرت حمزہ پر ہوا تھا ۔ وہ غور کریں گے کہ جن باتوں میں ہمیں لذت ملتی ہے اُن کو بھی ملتی ہے مگر یہ حض اسلام کی تعلیم کی وجہ سے اس سے لذت اندوز نہیں ہوتے جس کا مطلب یہ ہے کہ اُن کے پاس ضرور کوئی ایسی چیز ہے جو اُن کے اندر مقابلہ کی قوت پیدا کرتی ہے اور پھر وہ غور کے ساتھ ہماری باتیں سنیں گے۔ پس پہلی چیز یہ ہے کہ آپ لوگ اپنے دلوں میں خشیت پیدا کریں۔ میں نے پہلے بھی لاہور میں دوستوں کو یہ نصیحت کی تھی کہ وہ وفات مسیح اور ضرورت نبوت پر بحث کرنے کی بجائے اگر لوگوں کے دلوں میں خشیت پیدا کریں تو تبلیغ کا دائرہ بہت وسیع ہو سکتا ہے۔ لوگ کیوں اسلام اور احمدیت کی طرف نہیں آتے؟ اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ مختلف قسم کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں ۔ اُن زنجیروں کو توڑو تو پھر آئیں گے۔ جب دل شیطان کے قبضہ میں ہوں تو اس طرف توجہ کیسے ہو سکتی ہے۔ پہلے دلوں میں خشیت پیدا کرو پھر خود بخود دلوگ توجہ کرنے لگیں گے۔ مگر مجھے افسوس ہے کہ میری ان باتوں کی طرف بہت کم توجہ کی گئی ہے۔ اگر سچائی، دیانت، نیکی ، تقوی ، احسان اور ہمدردی مخلق پر آپ لوگ وعظ کریں تو آپ کے اپنے اندر بھی یہ صفات پیدا ہوں گی اور آپ لوگوں کی اپنی اصلاح بھی ہوگی اور سننے والوں کی بھی ، آپ کے زنگ بھی دور ہوں گے اور اُن کے بھی ۔ مگر میرے بار بار توجہ دلانے کے باوجود اس طرف توجہ نہیں کی گئی۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ سلسلہ کی ترقی اس رنگ میں نہیں ہو رہی جس رنگ میں ہونی چاہیے۔ کل ہی جماعت احمد یہ لاہور کے امیر صاحب کو میں نے حساب کر کے بتایا تھا کہ جس کی ار سے جماعت احمد یہ لاہور کی ترقی ہو رہی ہے اس کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ پچیس ہزار سال تک لاہور میں آپ لوگوں کی کثرت ہو جائے گی اور ظاہر ہے کہ لاہور دنیا کے مقابلہ میں کوئی چیز نہیں۔ اور جب اس کے لیے ہزاروں سال درکار ہیں تو پھر باقی دنیا میں احمدیت پھیلنے کے لیے کتنا عرصہ درکار ہوگا۔ اور یہ اس وجہ سے ہے کہ جماعت کے دوست یہ سمجھ کر کہ میرا باپ، بھائی اور رشتہ دار تو احمدی رفتار