خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 57

$1958 57 خطبات محمود جلد نمبر 39 ایسے انسان کے ہوتے ہیں جو شریعت پر پوری طرح قائم ہو۔اور تقوی کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ پر پوری طرح تو کل ہو۔گویا خدا تعالیٰ نے بتایا کہ اُس کی معیت حاصل کرنے کے ذرائع یہ ہیں کہ اول انسان اُس پر تو کل کرے تو یہ سمجھے کہ جو کچھ میں کرتا ہوں اُس میں میرے لیے کوئی برکت نہیں بلکہ اس سے جو نتیجہ خدا تعالیٰ نکالے گا اُس میں میرے لیے برکت ہے۔میں صرف نماز اور روزہ کے ذریعہ سے نجات نہیں پاؤں گا بلکہ میری نجات محض خدا تعالیٰ کے فضل سے ہوگی۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو تمام نیک کام کرنے والوں کے سردار تھے آپ نے ایک دفعہ زیادہ شدت کیج عبادت کی تو آپ کی ایک بیوی نے پوچھا يَا رَسُول اللہ ! آپ کو اس قدر عبادت کی کیا ضرورت کی ہے۔آپ کے تو سب اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں۔آپ نے فرمایا کیا میں اُس خدا کا ی شکریہ ادا نہ کروں جس نے مجھے معاف کیا ہے۔اُس نے تو مجھے اپنے فضل سے معاف کر دیا لیکن میرا بھی تو یہ کام ہے کہ اُس کا شکریہ ادا کروں اور اُس کے احکام کی زیادہ سے زیادہ فرمانبرداری کروں -2 یہ گویا تو کل کی ایک تشریح تھی جو آپ نے فرمائی۔اسی طرح ایک دوسرے موقع پر آپ نے فرمایا کہ میں بھی اپنے اعمال سے نہیں بخشا جاؤں گا بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے بخشا جاؤں گا اس کا نام تو گل ہے۔یعنی انسان یہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ بھی کرنا ہے خدا نے ہی کرنا ہے اس لیے مجھے اپنا سارا کام اُسی کے سپرد کر دینا چاہیے۔تو کل کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ سب کام خدا تعالیٰ کے سپر د کر دیا۔وکالت کے معنے ہوتے ہیں کسی کو اپنا قائمقام بنانا۔چنانچہ نکاح کے موقع پر جو وکیل بن کر آتے ہیں اُن کو اسی لیے وکیل کہتے ہیں کہ ان کو ایجاب و قبول کالڑکے یا لڑکی والوں کی طرف سے اختیار مل جاتا ہے۔تو تو کل کے معنے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو اپنا وکیل بنالیا، تمام کام اُس کے سپر د کر دیئے کہ جو بھی تیری طرف سے ہوگا وہ مجھے قبول ہو گا اور پسند ہوگا۔پس اس آیت کے پہلے فقرہ میں اللہ تعالیٰ نے تو کل کا ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ انسان کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی ڈھال بنالے اور یہ کہے کہ جو کچھ بھی میرے ساتھ گزرے میں آپ کے پیچھے کھڑا ہوں گا۔کوئی مصیبت آئے یا آرام پہنچے ، خوشی آئے یا رنج آئے میں آپ کے سوا کسی کی طرف توجہ نہیں کروں گا صرف آپ کو ہی اپنی ڈھال بناؤں گا۔اور دوسرے فقرے میں یہ بتایا ہے کہ حفاظت کے سپر د کر دینے کے یہ معنے نہیں کہ وہ خود بیکار ہو کر بیٹھ جائے اور دینی کاموں سے غافل ہو جائے بلکہ