خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 58

$1958 58 خطبات محمود جلد نمبر 39 فرمایا اللہ تعالیٰ جن لوگوں کے ساتھ ہے وہ نہ صرف اپنی حفاظت خدا تعالیٰ کے سپرد کرتے ہیں بلکہ وہ ای شریعت کے تمام احکام پر بھی پوری طرح عمل کرتے ہیں۔مجھے یاد ہے حضرت خلیفہ اول ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ جب کوئی مسلمان إِنْشَاءَ الله کہے تو سمجھ لو کہ اُس نے وہ کام کبھی نہیں کرنا کیونکہ مسلمان إِنشَاءَ اللہ کے یہی معنے سمجھا کرتا ہے کہ اگر کام نہ ہوسکا تو میرا کوئی قصور نہیں ہوگا بلکہ یہ خدا تعالیٰ کی مرضی کا نتیجہ ہو گا۔اس لیے جب وہ کوئی کام نہیں کرتا تو کہہ دیتا ہے کہ میں نے تو پہلے ہی اِنشَاءَ اللہ کہہ دیا تھا۔جس کے معنے یہ تھے کہ اگر خدا تعالیٰ کی مرضی ہوئی تو میں یہ کام کروں گا ورنہ نہیں۔اگر خدا تعالیٰ کی مرضی ہوتی تو وہ مجھ سے یہ کام کرالیتا۔پس اگر میں نے یہ کام نہیں کیا تو اس کے یہ معنے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی مرضی نہیں تھی۔گویا وہ کہتا ہے کہ یہ جھوٹ میں نے نہیں بولا بلکہ نَعُوذُ بِاللہ خدا تعالیٰ نے بولا ہے۔تو حضرت خلیفہ المسح الاول ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ جب کوئی مسلمان إِنشَاءَ اللہ کہے تو سمجھ لو کہ اس نے وہ کام نہیں کرنا۔اسی طرح آپ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ مسلمانوں کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے معنے صفر کے ہوتے ہیں۔چنانچہ جب کسی سے پوچھو کہ تمہارے گھر میں کیا ہے؟ تو کہتا ہے اللہ ہی اللہ ہے۔اور اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ گھر میں کچھ نہیں ہے۔گویا ایک مسلمان کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی یہ حقیقت ہے کہ وہ ایک دھیلا کی تو کوئی حقیقت سمجھتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کی کوئی حقیقت نہیں سمجھتا۔جب اُس کے گھر میں کچھ نہیں ہوگا تو وہ کہہ دے گا کہ میرے گھر میں تو صرف اللہ ہی اللہ ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ احادیث میں حضرت ابوبکر کا بھی اس قسم کا ایک قول آتا ہے۔ایک دفعہ آپ چندہ لائے۔وہ چندہ اتنا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شبہ ہوا کہ یہ اپنے گھر کا سارا سامان لے آئے ہیں۔حضرت عمر بھی اُس موقع پر چندہ لائے تھے اور وہ کہتے ہیں کہ میں نے اس موقع پر اتنا چندہ دیا تھا کہ میں خیال کرتا تھا کہ اب حضرت ابو بکر مجھ سے چندہ میں نہیں بڑھ سکتے لیکن بعد میں جب حضرت ابو بکر سامان لائے تو اُس میں گھر کی چھوٹی چھوٹی استعمال کی تمام چیزیں بھی تھیں جو انہوں نے لا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شبہ ہوا کہ آپ گھر کی سب چیزیں اُٹھا لائے ہیں۔چنانچہ آپ نے دریافت فرمایا کہ ابوبکر ! کیا تم گھر میں بھی کچھ چھوڑ آئے ہو یا نہیں ؟ حضرت ابو بکر کہنے لگے يَا رَسُولَ الله ! گھر میں میں اللہ اور اُس کے رسول کا ذکر