خطبات محمود (جلد 39) — Page 356
خطبات محمود جلد نمبر 39 وفات کے بعد بھی آپ کے مزار پر آتے رہے۔356 $1959 جس طرح مولوی محمد احسن صاحب نے لاہور جا کر میرے متعلق کہا تھا کہ میں نے ہی انہیں کی خلیفہ بنایا ہے اور اب میں ہی انہیں معزول کرتا ہوں اسی قسم کی بات مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق کہی تھی۔دعو ی سے پہلے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے بڑے مداح تھے لیکن جب آپ نے دعوی کیا تو مخالف ہو گئے اور کہنے لگے میں نے ہی مرزا صاحب کو بڑھایا تھا اور اب میں ہی انہیں نیچے گراؤں گا۔چنانچہ وہ تمام عمر آپ کے خلاف پروپیگنڈا کرنے اور لوگوں کو آپ کے پاس آنے سے روکنے کی کوشش کرتے رہے مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں نا کام رکھا۔پیرا نامی ایک پہاڑ یہ تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس بطور خدمت گار رہتا تھا۔اُسے گنٹھیا کی بیماری تھی، اُس کے رشتہ داروں کو علم ہوا کہ قادیان میں مفت علاج ہوتا ہے تو وہ اُسے اُٹھاتی کر قادیان لے آئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُس کا علاج کیا اور جب وہ تندرست ہوا تو آپ کی خدمت میں ہی رہنے لگ گیا اور اپنے وطن واپس نہ گیا۔وہ شخص اتنا اُجڑ تھا کہ دو چار آنے لے کر دال میں مٹی کا تیل ملا کر پی لیا کرتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسے کبھی کبھی بٹالہ پلٹی چھڑانے کے لیے بھیج دیا کرتے تھے اور بٹالہ سٹیشن پر روزانہ مولوی محمد حسین صاحب اس لیے جایا کرتے تھے کہ جو لوگ قادیان جارہے ہوں انہیں ورغلانے کی کوشش کریں۔ایک دن اتفاق ایسا ہوا که مولوی محمدحسین صاحب بٹالوی کو قادیان جانے والا کوئی شخص نہ ملا۔انہوں نے پیرے کو ہی پکڑ لیا اور کہنے لگے پیرے! کیا تیری عقل ماری گئی ہے؟ تو مرزا صاحب کے پاس کیوں بیٹھا ہے؟ وہ تو جھوٹا ہی آدمی ہے۔پیرا کہنے لگا مولوی صاحب! میں تو جاہل ہوں اور پڑھا لکھا نہیں لیکن ایک بات جانتا ہوں اور وہ یہ کہ مرزا صاحب اپنے گھر میں بیٹھے رہتے ہیں اور لوگ آپ سے ملنے کے لیے دور دور سے آتے ہیں۔بعض دفعہ وہ یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں یا مجھے ابھی فرصت نہیں اور لوگ پھر بھی آپ کے دروازہ کو نہیں چھوڑتے۔دوسری طرف میں دیکھتا ہوں کہ آپ روزانہ یہاں آ کر لوگوں کو قادیان جانے سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں اور شاید اس کوشش میں آپ کی جوتیاں بھی گھس کی گئی ہوں گی مگر لوگ پھر بھی قادیان جاتے ہیں۔اس سے میں سمجھتا ہوں کہ مرزا صاحب ضرور سچے