خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 338 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 338

$1959 338 خطبات محمود جلد نمبر 39 ملتا۔میں نے اُس وقت خیال کیا کہ عورتیں یونہی گھبرا جاتی ہیں لیکن بعد میں مجھے صدر عمومی ربوہ کی طرف سے پٹھی آئی کہ ربوہ میں گندم با لکل نہیں مل رہی۔اس لیے مجھے افسران بالا سے ملنے کے لیے بھیجا جا رہا ہے تا کہ ربوہ میں راشنگ (RATIONING) کا انتظام کیا جائے۔پھر مجھے پتا لگا کہ اتنی جلدی گندم کی قلت ہمارے ملک میں ہو گئی ہے اور اس علاقہ میں جس کے قریب ہی سرگودھا اور لائکپور ہے جہاں بڑی مقدار میں گندم پیدا ہوتی ہے گندم کی قلت ہو گئی ہے۔تحقیقات کرنے سے معلوم ہوا کہ سرگودھا میں اور بھی حالت بُری ہے۔وہاں گاؤں کے لوگوں کو بڑی مصیبت پیش ہے اور وہ جوار بڑے مہنگے بھاؤ خرید کر کھا رہے ہیں، گندم کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔پھر ایک عورت شکایت لے کر آئی کہ ہمیں بیسن کی ضرورت تھی اور بازار سے بہت مہنگا بیسن ملا، جوار بھی چار روپے اور زیادہ سے زیادہ چھ روپے فی من مل جاتی تھی۔اب کہتے ہیں کہ سرگودھا میں بارہ روپے فی من کے حساب سے زمیندار جوار خرید کر کھا رہے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ بڑے بڑے آدمی آپس میں مل کر فیصلہ کر لیتے ہیں چھوٹے زمینداروں کی سے مشورہ نہیں لیتے جس کی وجہ سے اس قسم کی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔مثلاً احمد نگر کی زمین میں میری گندم ہی کوئی دو من فی ایکڑ کے حساب سے پیدا ہوئی تھی لیکن افسروں نے ساری زمین پر دو من اوسط کا ٹیکس لگا یا حالانکہ اس علاقہ میں زمین کو گل پندرہ فیصدی پانی ملتا ہے اس لیے ساری زمین کا پندرھواں حصہ ہی ہماری زمین کاشت کی جاسکتی تھی۔نتیجہ یہ ہوا کہ گو ہم زمیندار ہیں لیکن ہمارے گھر غلہ کا ایک دانہ بھی نہیں۔ایم۔این سنڈیکیٹ (M۔N۔SYNDICATE) جو میری طرف سے اور میرے بیٹوں کی طرف سے ہماری زمین پر نگران مقرر ہے اُس نے وہی گندم جو گھروں میں خوراک کے لیے رکھی گئی تھی اُٹھا کر گورنمنٹ کو دے دی لیکن افسروں نے پھر نوٹس دے دیا کہ پانچ سو من گندم اور دو۔ہم نے فوج کے پاس اپروچ (Approach) کی تو جھنگ میں جو اسسٹنٹ ایڈمنسٹریٹر تھے انہوں نے کی حمد اس عرصہ میں صدر عمومی افسران بالا سے ملے ہیں جس کے نتیجہ میں فوڈ ڈیپارٹمنٹ نے ربوہ کے متعلق بھی راشتنگ کا حکم دے دیا ہے اور گندم کا انتظام کر دیا ہے۔چنانچہ بڑوں کو چار چھٹانک اور بچوں کو دو چھٹا تک روزانہ کے حساب سے گندم دی جا رہی ہے اور سنا ہے کہ یہ مقدار آب زیادہ کرنے والے ہیں۔