خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 318 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 318

318 $1959 خطبات محمود جلد نمبر 39 اور اس طرح اپنے بیجوں کی مدد کی جائے۔چنانچہ انہوں نے آگ جلائی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اُس میں ڈال دیا۔اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ینارُ كُوْنِى بَرْدًا وَ سَلَمَّا عَلَى ابراهیم اے آگ ! تو ابراہیم کے لیے ٹھنڈی بھی ہو جا اور اس کے لیے سلامتی کا باعث بھی بن جا۔حضرت خلیفہ اول اس آیت کے یہ معنی کیا کرتے تھے کہ خدا تعالیٰ نے اُن کی مخالفت کی آگ کو ٹھنڈا کر دیا تھا۔4 مجھے یاد ہے 1903ء میں جب ایک شخص عبدالغفور نے جو اسلام سے مرتد ہو کر آریہ ہو گیا تھا اور اُس نے اپنا نام دھرم پال رکھ لیا تھا " ترک اسلام “ نامی کتاب لکھی تو حضرت کی خلیفہ اول نے اُس کا جواب لکھا جو نورالدین کے نام سے شائع ہوا۔یہ کتاب غالبا سیر میں روزانہ ای حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سنائی جاتی تھی۔میری عمر اس وقت کوئی پندرہ سال کی تھی لیکن میں بھی سیر میں ساتھ جایا کرتا تھا۔مجھے یاد ہے حضرت خلیفہ اول زیادہ تیز نہیں چل سکتے تھے۔یوں تو کی آپ کی صحت بہت اچھی تھی اور آپ کے قوالی بڑے مضبوط تھے مگر معلوم ہوتا ہے کہ کوئی خلقی نقص تھا جس کی وجہ سے آپ چلنے میں کمزور تھے۔سیر میں آپ بعض دفعہ پیچھے رہ جاتے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے مولوی نورالدین صاحب کہاں ہیں؟ اس پر آپ دوڑتے ہوئے آتے۔جلدی میں آپ کی پگڑی گر جاتی اور آپ دوڑتے ہوئے پگڑی باندھتے جاتے اور جوتی گھسیٹتے چلے جاتے۔پس گو مجھے پوری طرح یاد نہیں مگر میرا خیال ہے کہ یہ کتاب کوئی اور شخص حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سنایا کرتا تھا غالباً شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی یا مفتی محمد صادق صاحب یہ کتاب سنایا کرتے تھے ( مفتی محمد صادق صاحب نے اپنی روایات میں لکھا ہے کہ وہ یہ کتاب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ی شام کی مجلس میں سنایا کرتے تھے مگر مجھے یہی یاد ہے کہ یہ کتاب سیر میں آپ کو سنائی جاتی تھی)۔جب دھرم پال کا یہ اعتراض آیا کہ اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے آگ ٹھنڈی ہوئی تھی تو دوسروں کی کے لیے کیوں نہ ہوئی اور اس پر حضرت خلیفہ اول کا یہ جواب سنایا گیا کہ اس جگہ ”نار“ سے ظاہری آگ مُراد نہیں بلکہ مخالفت کی آگ مُراد ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اس می تاویل کی کیا ضرورت ہے؟ مجھے بھی خدا تعالیٰ نے ابراہیم کہا ہے۔اگر لوگوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے آگ کس طرح ٹھنڈی ہوئی تو وہ مجھے آگ میں ڈال کر دیکھو