خطبات محمود (جلد 39) — Page 309
$1959 309 خطبات محمود جلد نمبر 39 ہیں اور پاکستان نے ہمیں پناہ دی ہے۔اب کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ ہم پاکستان کی مخالفت کریں اور اس کی حمایت اور مدد نہ کریں؟ اس صورت میں کیا ہم سمندر میں جا کر ڈوب مریں ؟ مس مرد ولا سارا بائی نے مجھ سے کہا گاندھی جی چاہتے ہیں کہ آپ بیشک ہندوستان آجائیں حکومت کچھ نہیں کہے گی۔میں نے اُن سے کہا میں قیدی بن کر ہندوستان میں نہیں رہنا چاہتا میں ایک تبلیغی جماعت کا خلیفہ ہوں جو دنیا کے ہر حصہ میں پھیلی ہوئی ہے۔اگر میں اکیلا قادیان آ جاؤں تو میں اسے برداشت نہیں کر سکتا۔ہاں اگر گاندھی جی یہ اعلان کر دیں کہ قادیان اور اُس کے اردگرد کے علاقہ کے سب مسلمان ہندوستان واپس آجائیں اور اُن کی جائیداد میں انہیں واپس دے دی جائیں گی اور انہیں کی امن سے وہاں زندگی گزارنے کی اجازت دی جائے گی تو پھر میں بیشک واپس آسکتا ہوں۔پھر ہمارا ایک وفد دہلی گیا تو مس مرد ولا سارا بائی نے کہا میں چاہتی تھی احمد یوں کی مددکروں لیکن جب میں نے دیکھا کہ احمدی کشمیر میں لڑ رہے ہیں تو میں نے اس خیال کو ترک کر دیا۔اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اسی عورت نے جس نے ہمارے کشمیر میں لڑنے پر خفگی کا اظہار کیا تھا خود لکھا ہے کہ بھارت کو چاہیے کہ کشمیر پاکستان کو واپس کر دے اور پنڈت نہرو نے اس کے متعلق تقریر میں کہا ہے کہ اتنی ضدی عورت میں نے کوئی نہیں دیکھی۔ہم نے اسے سمجھایا ہے اور پھر دھمکی بھی دی ہے کہ تمہیں نظر بند کر دیا جائے گا مگر وہ باز نہیں آتی۔لیکن وہ عورت باز بھی کیسے آسکتی ہے ، وہ گاندھی جی کی چیلی ہے اور ہر وقت اُن کے پاس رہتی تھی۔جب میں 1946ء میں گاندھی جی کو ملنے دہلی گیا تو ملاقات کے دوران میں دو عورتیں گاندھی جی کے پاس بیٹھی تھیں جن کا چہرہ میری باتوں پر غصہ سے سرخ ہورہا تھا۔جب وہ میرے پاس رتن باغ میں آئی تو میں نے اُس سے پوچھا کہ میری ملاقات کے وقت گاندھی جی کے پاس کونسی دو عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں ؟ اس نے کہا ایک تو میں تھی اور ایک ڈاکٹر عورت تھی۔میں نے کہا پھر تم مجھ پر غصہ کیوں ہورہی تھیں ؟ انہوں نے کہا غصہ کیوں نہ ہوتی آپ میرے گو رُوح سے بحث کر رہے تھے۔میں نے کہا گاندھی جی نے تو میری بات مان لی تھی پھر تمہارے غصہ ہونے کی کیا وجہ تھی ؟ اُس نے کہا گاندھی جی نے بیشک آپ کی بات مان لی تھی لیکن ہم نے تو نہیں مانی تھی۔بہر حال وہ عورت گاندھی جی کی دوست اور چیلی تھی اور ہندوستان میں بہت مقبول تھی لیکن اس کے باوجود اس نے یہ لکھا ہے کہ