خطبات محمود (جلد 39) — Page 310
$1959 310 خطبات محمود جلد نمبر 39 بخشی حکومت کو توڑ دیا جائے اور عبداللہ کی گورنمنٹ قائم کی جائے اور کشمیر کو آزاد کر دیا جائے۔اب اگر ی ہندوستان کی ایک باشندہ اور گاندھی جی کی دوست اس قسم کا مشورہ دے سکتی ہے کہ کشمیر کو آزاد کر دیا تو جائے جس کے معنے یہ ہیں کہ اسے پاکستان کو واپس کر دیا جائے تو ایک پاکستانی اگر یہ مشورہ دے کہ قادیان اور اُس کے نواحی علاقے پاکستان کو دے دیئے جائیں تو اس میں کیا حرج ہے؟ زیادہ سے زیادہ اس کے یہی معنے ہو سکتے ہیں کہ پنڈت نہرو اور اُن کی پارلیمنٹ اس بارہ میں اپنا اختیار استعمال کرے۔اور اگر وہ اپنا اختیار استعمال نہیں کرتے تو وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ غلط مشورہ ہے ہم اسے ماننے کے لیے تیار نہیں۔بہر حال اس بات پر غصہ ہونا اور یہ طعنہ دینا کہ ہم نے احمدیوں کو قتل نہیں کیا اور انہیں مارا نہیں درست نہیں۔اس موقع پر مجھے وہ واقعہ یاد آتا ہے کہ جب حضرت موسی علیہ السلام فرعون کے پاس خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچانے گئے تو اس نے کہا کہ کیا تجھے یاد نہیں کہ تو بچہ تھا اور ہم نے تیری پرورش کی؟ انہوں نے کہا اگر تو نے مجھے بچپن میں پالا ہے تو کونسا احسان کیا ہے۔تم نے میری قوم کو سینکڑوں سال سے غلام بنایا ہوا ہے۔3 یہاں بھی یہی صورت ہے۔بھارت کے سارے احمدی جو ہزاروں کی تعداد میں ہیں بھارتی حکومت کی خدمت کر رہے ہیں، اُسے ٹیکس ادا کر رہے ہیں اور مختلف ملازمتوں میں خدمت کر رہے ہیں۔اگر اس کے بدلہ میں ہندوستان کی حکومت نے قادیان کے چند احمد یوں کو قتل نہیں کروایا یا مارا نہیں تو کیا احسان کیا ہے؟ فرعون کی طرح وہ یہ بات بھول گئے کہ وہاں بھارتی احمدیوں کی ہزاروں کی وفادار جماعت موجود ہے لیکن اپنی بات یاد رکھی کہ ہم نے قادیان کی جائیداد واگزار کر دی ہے اور احمد یوں کو قتل نہیں کیا۔کیا بھارتی احمدیوں کی خدمات کا یہ بدلہ دیا گیا ہے کہ اُن میں سے چند آدمیوں کی جانیں نہیں لی گئیں؟ کیا کوئی مہذب حکومت اس بات کو برداشت کر سکتی ہے کہ وہ اپنی رعایا کو قتل کر دے؟ اس سے تو وہ ساری دنیا میں بدنام ہو جائے گی۔ہاں اُن کا یہ احسان ہے کہ انہوں نے میری کوٹھی دارالحمد جس کے ایک سو چھوٹے بڑے کمرے ہیں اور کئی لاکھ کی جائیداد ہے ایک پناہ گزیں کو پندرہ روپیہ ماہوار کرایہ پر دے دی تھی۔اگر وہ کوٹھی لاہور میں ہوتی بلکہ میں کہتا ہوں کہ وہ چنیوٹ میں بھی ہوتی تو پانچ چھ سو روپیہ کرایہ پر چڑھ جاتی۔پھر انہوں نے چودھری ظفر اللہ خان صاحبہ