خطبات محمود (جلد 39) — Page 302
خطبات محمود جلد نمبر 39 302 $ 1958 09 آ رہی ہوں لیکن وہ بعض وجوہات کی بناء پر نہیں آسکی۔مجھے یاد ہے میں پچھلی دفعہ کراچی گیا تو وہ ای میرے پاس آکر روتی تھی کہ میری بیٹی کا لج میں پڑھتی ہے، کوئی ایسی کتاب دیں جو میں اُسے دوں اور وہ اُسے پڑھتی رہے۔ایسا نہ ہو کہ وہ کالج کے اثر کے نیچے دین سے دور چلی جائے۔تو یہ چیز اللہ تعالیٰ کی ہی دین ہے اور چونکہ کئی عورتوں نے نہایت اعلیٰ نمونہ دکھایا ہے اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ دوسری عورتوں کو دین کی باتیں سیکھنے سے محروم رکھا جائے۔یہاں ربوہ میں عورتوں نے اپنا ایک ہال بنایا ہوا ہے۔پھر انہوں نے ایک K۔G۔SCHOOL اور ایک سلائی کا سکول کھولا ہوا ہے۔K۔G۔SCHOOL میں لڑکے بھی پڑھتے ہیں لیکن لڑکے اکثر فیل ہو جاتے ہیں اور لڑکیاں پاس ہو جاتی ہیں۔تو جس طرح عورتیں دنیا کے علوم حاصل کر سکتی ہیں اسی طرح وہ دین کے علوم بھی حاصل کر سکتی ہیں۔ہمیں چاہیے کہ انہیں دین سیکھنے کے مواقع بہم پہنچائیں۔اگر ہم انہیں دین سیکھنے کے مواقع ہم نہیں پہنچائیں گے تو ہم مجرم ہوں گے، وہ مجرم نہیں ہوں گی۔خدا ہمیں کہے گا تم گنہگار ہو۔ان عورتوں میں دین سیکھنے کی طاقت موجود تھی لیکن تم نے انہیں دین سیکھنے کے مواقع ہم نہیں پہنچائے۔پس آپ لوگوں کا فرض ہے کہ آپ عورتوں کی دینی تعلیم کی طرف توجہ کریں۔میں نے جب تفسیر صغیر لکھی تو اگر چہ میرا حق تھا کہ میں کچھ کا پیاں مفت حاصل کروں مگر میں نے بہت سی کا پیاں خرید کر اپنی بیویوں کی اور بیٹیوں کو دیں اور کہا اسے پڑھو اور اس سے فائدہ اٹھاؤ تا کہ میری محنت غیروں کے ہی کام نہ آئے بلکہ میرے اپنے خاندان کے بھی کام آجائے۔(الفضل 10 فروری 1959ء) 1 مسلم كتاب الجمعة باب تخفيف الصلوة والخُطْبَة 2 : الجمعة : 10 3 : بخارى كتاب الصلوة باب إِذَا حَمَلَ جَارِيَةً صَغِيرَةً عَلَى عَاتِقِهِ فِى الصَّلوة میں امامہ بنت زینب کا ذکر ہے۔