خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 268

$1958 268 خطبات محمود جلد نمبر 39 ہوئے تھے اور ابو جہل بڑا فخر کر رہا تھا کہ میں نے آج محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو مارا اور اُسے گالیاں دیں اور وہ بالکل ڈر گیا اور آگے سے بول بھی نہ سکا۔اتنے میں حضرت حمزہ وہاں پہنچ گئے اور انہوں نے کی زور سے اپنی کمان ابو جہل کے سر پر مارتے ہوئے کہا کمبخت! اگر تجھے بہادری کا دعوی ہے تو آ اور میرے ساتھ لڑ ، ورنہ شرم کر، محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے تو تجھے کچھ بھی نہیں کہا تھا مگر پھر بھی تو نے اُسے گالیاں دیں اور بُرا بھلا کہا۔میں نے اب سارے مکہ والوں کے سامنے تجھے مارا ہے ، اگر تجھ میں ہمت ہے تو میرا مقابلہ کر۔ابو جہل اُس وقت رؤسائے مکہ میں بڑی قدر و منزلت رکھتا تھا۔حضرت حمزہ کی اس کی حرکت پر انہیں غصہ آیا اور وہ جوش میں اٹھے اور حضرت حمزہ کا مقابلہ کرنا چاہامگر ابوجہل ایسا گھبرایا کہ وہ کہنے لگا تم حمزہ کو کچھ نہ کہو، مجھ سے ہی آج زیادتی ہو گئی تھی۔میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو صفا پہاڑی پر بیٹھے ہوئے دیکھا تو مجھے غصہ آگیا کہ کیا اس کو اتنی جرات ہوگئی ہے کہ یہ بھی پہاڑی پر بیٹھے، یہ تو ہمیں گھلا چیلنج ہے۔اس لیے میں نے اُسے گالیاں بھی دیں اور مارا بھی۔پس حمزہ کا غصہ حق بجانب ہے۔12 یہ وہ مظالم تھے جو ابوجہل نے کیے۔انہی مظالم کا یہ نتیجہ ہے کہ باوجود ابو جہل کے بیٹے کی عظیم الشان قربانیوں کے اُس کی نسل اپنے آپ کو اُس کی طرف منسوب نہیں کرتی۔تو جو قوم ظلم کرتی ہے اس کے ظلم کا اثر نسلاً بعد نسل چلتا چلا جاتا ہے۔اور اگر کوئی مظلوم بنتا ہے تو اُس کی مظلومیت کا اثر بھی نسلاً بعد نسل چلتا ہے۔حضرت موسی علیہ السلام کی قوم مظلوم بنی اور فرعون ظالم بنا۔فرعون کی نسل کبھی بادشاہ نہیں بنی امی وہ ہمیشہ ذلیل رہی اور ہمیشہ بنی اسرائیل سے شکست کھاتی رہی۔ایک دفعہ حضرت موسی کے بعد بھی فرعونیوں نے بنی اسرائیل پر حملہ کیا مگر اس میں بھی شکست کھائی اور ذلیل ہوئے اور آج فرعون کی نسل کا تو نام تک بھی نہیں مگر موسی علیہ السلام کی قوم پھر اسرائیل پر حکومت کر رہی ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے ظلم سہے اور خدا تعالیٰ نے مظلوم کی مدد کی۔اگر مکہ والے بھی ظلم نہ کرتے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شروع میں ہی اطاعت قبول کر لیتے تو آج مسلمانوں پر بھی یہ ادبار نہ آتا۔اگر حضرت موسی علیہ السلام کی قوم تین ہزار سال چلی تھی تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم تمہیں ہزار سال چلتی کیونکہ مظلوم کی مدد کی جاتی ہے۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے وہ لوگ تھے جنہوں نے شروع شروع میں آپ پر بڑے بھاری ظلم کیے تھے اس لیے وہ ادبار کا شکار ہو گئے۔مگر