خطبات محمود (جلد 39) — Page 257
$1958 257 خطبات محمود جلد نمبر 39 ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا گیا ہے اور ایک قرآن وہ ہے جو خدا تعالیٰ نے فطرت انسانی میں مخفی طور پر رکھ دیا ہے۔یہ دونوں جب آپس میں مل جاتے ہیں تو وہ پکا قرآن ہو جاتا ہے ہے کیونکہ قرآن کریم کی بھی لوگ تاویلیں کرتے رہتے ہیں۔مگر جب اس کی کوئی تفسیر فطرت صحیحہ کے مطابق ہو تو وہ صحیح سمجھی جائے گی۔لوگ کہا کرتے ہیں کہ فلاں تفسیر بالرائے ہے۔حالانکہ اگر تفسیر بالرائے قرآن کریم کے لفظوں کے ساتھ مل جاتی ہے تو وہ تفسیر بالرائے کس طرح ہوئی ؟ رائے کے متعلق بھی تو انسان سمجھ سکتا ہے کہ وہ قرآن کریم کے مطابق ہے یا نہیں۔اگر وہ قرآن کریم کے مطابق ہے تو اُس کو غلط کہنے والا خود غلطی خوردہ ہوگا۔ایک احمدی عورت نے جس کا خاوند بڑے عہدہ پر ہے مجھے بتایا کہ میرا خاوند ایک دفعہ ریلوے کے ایک بڑے افسر کو میرے پاس لے آیا اور کہنے لگا کہ یہ تمہیں سمجھائے گا۔افسر باتیں کرنے لگا تو میں نے کہا آپ تو ایک عالم آدمی ہیں اور میں زیادہ پڑھی لکھی نہیں۔آپ مجھے بتائیں کہ قرآن کریم صرف آپ کے لیے نازل ہوا ہے یا میرے لیے بھی نازل ہوا ہے؟ کہنے لگا ہر ایک کے لیے نازل ہوا ہے۔میں نے کہا اگر قرآن کریم میرے لیے بھی نازل ہوا ہے تو پھر میرا بھی حق ہے کہ میں اس کے معنے کروں۔کہنے لگی وہ شخص شرمندہ ہو کر کہنے لگا۔ہاں ! آپ کا بھی حق ہے کہ اس کے معنے کریں۔اس عورت نے بتایا کہ پھر جب اس نے معنے کیے تو میں نے اُس پر اعتراض کیا۔اس پر وہ شرمندہ ہو کر چلا گیا۔بعد میں میرا خاوند کہنے لگا میں اتنے بڑے آدمی کو تمہارے پاس لایا تھا مگر تم نے اُس کی ذلت کر دی۔میں نے کہا اُس نے تو آپ ہی کہہ دیا تھا کہ تمہارا بھی حق ہے کہ قرآن کریم کے معنے کرو۔اور جب اُس نے مجھے حق دیا تھا تو میں کیوں اپنا حق استعمال نہ کرتی۔اب دیکھو ایک عورت بھی بجھتی ہے کہ تفسیر بالرائے کیا چیز ہوتی ہے۔وہ یہ جانتی ہے کہ اگر ہم قرآن کریم کے اُلٹ معنے کرتے ہیں تو دوسرا آدمی آپ ہی اُس کی تردید کر دے گا۔اور اگر وہ ان معنوں پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتا اور مان لیتا ہے تو وہ تفسیر بالرائے کیسے ہو گئی ؟ آخر جو شخص تفسیر بالرائے کرتا ہے وہ بھی تو کوئی تفسیر کرتا ہے یا نہیں ؟ اگر اس تفسیر کو ر ڈ کر دیا جاتا ہے تو ی معلوم ہوا کہ وہ تفسیر غلط تھی اور وہ تفسیر جو دلائل کے ساتھ غالب آ گئی وہ صحیح تھی۔ایسی تفسیر کو