خطبات محمود (جلد 39) — Page 232
232 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر قسم کی اونٹنیوں پر سوار ہو کر جو کثرت سفر کی وجہ سے دبلی ہو جائیں گی تیرے پاس لوگ آئیں گے یعنی عرب کے کناروں سے چل کر لوگ آئیں گے۔مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مار تو صرف عرب کے کناروں تک تھی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مارد نیا کے کناروں تک ہے۔پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مار صرف اونٹوں تک تھی مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مارریلوں، جہازوں بلکہ ہوائی جہازوں تک ہے۔چنانچہ مغربی افریقہ سے اس کی سال ہماری جماعت کے دو آدمیوں نے ہوائی جہاز میں سفر کر کے حج کیا ہے۔اسی طرح مشرقی افریقہ سے ہر سال کئی آدمی ہوائی جہازوں میں سوار ہو کر حج بیت اللہ کے لیے آتے ہیں۔مغربی افریقہ سے جور ئیں اس سال حج کے لیے گئے اُن کے ساتھ ایک مقامی افریقن مبلغ بھی تھا۔اسی طرح ربوہ سے جو مبلغ گئے ہوئے ہیں اُن کو بھی انہوں نے اپنے ساتھ لیا اور وہ سب کے سب حج کر آئے۔بہر حال مکہ کی برکات مکہ کے ساتھ ہی وابستہ ہیں جن سے اپنے اپنے ظرف کے مطابق ہر شخص جو وہاں جائے فائدہ اُٹھا سکتا ہے مگر افسوس ہے کہ مسلمان مکہ مکرمہ سے صحیح رنگ میں فائدہ نہیں اٹھاتے اور حج سے جو برکات وابستہ ہیں اُن کو حاصل کرنے کی پوری کوشش نہیں کرتے۔حج سے بڑی غرض تو یہ ہے کہ لوگ وہاں کثرت سے عبادت کریں، اپنے اوقات ذکر الہی میں بسر کریں، روزے رکھیں ، اعتکاف بیٹھیں اور اپنے دلوں کو خدا تعالیٰ کے نور سے منور کرنے کی کوشش کریں مگر کئی لوگ ہنسی مذاق اور ادھر ادھر کی باتوں میں ہی اپنا وقت ضائع کر دیتے ہیں۔میں نے پہلے بھی کئی دفعہ سنایا ہے کہ ہم منی سے عرفات کو جا رہے تھے کہ میں نے ایک نوجوان کو دیکھا کہ وہ اُس وقت اردو کے نہایت گندے عشقیہ اشعار پڑھتا جا رہا تھا۔وہ بمبئی کے ایک سیٹھ کا لڑکا تھا۔جب ہم واپس آنے لگے تو اتفاقاً جس جہاز میں میں سوار ہوا اُسی میں وہ نو جوان بھی سوار تھا۔اُسے کسی طرح پتا لگ گیا کہ میں احمدی ہوں۔اب یا تو اُس کی یہ کیفیت تھی کہ عرفات کو جاتے ہوئے عین ذکر الہی کے وقت وہ اردو کے نہایت گندے عشقیہ اشعار پڑھتا جا رہا تھا اور یا جب میں جہاز میں ٹہلتا تو وہ مجھے دیکھ کر کہتا کہ خدایا! وہ جہاز بھی فرق نہیں ہوتا جس میں ایسا شخص سوار ہے۔میں اس کی یہ بات سن کر دل میں ہنستا کہ اسے اتنی بھی سمجھ نہیں کہ اگر یہ جہاز غرق ہوا تو ساتھ ہی وہ بھی غرق ہو جائے گا۔ایک دن میں نے اُس سے کہا کہ میں نے آپ کو عرفات کی طرف جاتے ہوئے نہایت