خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 192

192 و $1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 کی یہ بات سن کر ہنس پڑتا کہ یہ اتنا بھی نہیں سمجھتا کہ اگر جہاز غرق ہوا تو میں بھی ساتھ ہی غرق ہو جاؤں گا۔ایک دن میں نے اُس سے پوچھا کہ میں نے مٹی میں آپ کو عشقیہ اشعار پڑھتے دیکھا تھا۔اگر آپ نے وہاں بھی ذکر الہی نہیں کرنا تھا تو آپ حج کے لیے کیوں گئے تھے؟ کہنے لگا ہم لوگ تاجر ہیں اور ہماری دکان خوب چلتی تھی مگر پچھلے سال ہمارے ساتھ کی دکان والا حج کر آیا اور اُس نے اپنے نام کے ساتھ حاجی لکھ کر دکان پر بورڈ لٹکا دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی بکری بڑھ گئی اور ہماری کم ہو گئی۔میرے باپ نے مجھے کہا کہ تو بھی حج کر آتا کہ ہم بھی ایک ایسا ہی بورڈ لکھوا کر لٹکا دیں اور لوگ ہماری دکان پر بھی کثرت سے آنا شروع کر دیں۔غرض اللہ تعالیٰ کی نصرت اور اُس کی تائید حاصل کرنے کا یہی طریق ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی پر توکل رکھے اور اُس سے دُعائیں کرتا رہے۔چنانچہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَلَا تُطِعِ الْكَفِرِينَ وَالْمُنْفِقِينَ وَدَعْ اَذْبهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ وَكَفَى بِاللهِ وَكِيلاً یعنی کافروں اور منافقون کے پیچھے مت چلو اور ان کی اذیتوں کی پروا مت کرو بلکہ خالص اللہ تعالیٰ پر توکل رکھو اور یہ بھی نہ سمجھو کہ مخالف حالات میں ہم کس طرح کامیاب ہو سکتے ہیں۔اگر تم اللہ تعالیٰ پر سچا تو کل رکھو گے تو وہ خود تمہارے غلبہ اور کامیابی کے سامان پیدا فرمادے گا کیونکہ تمام طاقتیں خدا تعالیٰ کو ہی حاصل ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ ذات الرقاع سے واپس تشریف لا رہے تھے کہ ایک شخص جس کا بھائی کسی جنگ میں مسلمانوں کے ہاتھوں مارا گیا تھا اور جس نے قسم کھائی تھی کہ میں اپنے بھائی کا ضرور بدلہ لوں گا وہ اسلامی لشکر کے پیچھے پیچھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنے کے ارادہ سے چل پڑا۔اُس نے بڑی کوشش کی مگر اسے حملہ کا کوئی موقع نہ ملا کیونکہ صحابہ آپ کی بڑی حفاظت کرتے تھے۔جب مدینہ صرف چند میل رہ گیا تو صحابہ مطمئن ہو گئے اور ایک جگہ وہ کھانا پکانے کے لیے ادھر ادھر منتشر ہو گئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حفاظت کے لیے کوئی شخص نہ رہا۔آپ ایک درخت کے نیچے آرام فرمانے کے لیے لیٹ گئے اور آپ کو نیند آ گئی۔وہ شخص جو آپ کے تعاقب میں آ رہا تھا اُس نے اِس موقع کو غنیمت سمجھا اور آپ کے قریب آ کر اُس نے آپ کی تلوار اُٹھائی اور پھر آپ کو جگا کر کہنے لگا کہ بتا ئیں اب آپ کو کون بچا سکتا ہے؟