خطبات محمود (جلد 39) — Page 191
$1958 191 خطبات محمود جلد نمبر 39 وہ عزیز میرے کمرہ میں آئے تو میں نے انہیں کہا کہ ان لوگوں کی حالت سخت قابلِ رحم ہے آپ مہربانی کریں اور ان کو بھی ٹکٹ لا دیں۔وہ بڑے غصہ سے کہنے لگے کہ میں کوئی ٹکٹوں کا ٹھیکیدار ہوں کہ ہر ایک کے لیے خرید تا پھروں۔میں نے کہا ماموں ! آپ کوشش کریں، یہ تو ثواب کا کام ہے اور چند ٹکٹ لا دیں تاکہ ان کی پریشانی دور ہو۔وہ گئے اور آٹھ کی بجائے غالباً بائیس ٹکٹ ہی لے آئے۔میں نے انہیں ٹکٹ اور باقی رو پے کھڑکی سے دے دیئے۔انہوں نے میرا بڑا شکر یہ ادا کیا اور کہا کہ میں آپ کا بہت ممنون ہوں آپ نے ہمارے ساتھ بڑی نیکی کی ہے۔دوسرے دن جہاز نے روانہ ہونا تھا۔میں بعض چیزیں خریدنے کے لیے بازار چلا گیا اور وہاں مجھے کچھ دیر ہو گئی۔جب میں واپس پہنچا تو جہاز چلنے ہی والا تھا۔میں نے دیکھا کہ وہی نوجوان سیڑھی پر کھڑا ہے اور میرا انتظار کر رہا ہے۔مجھے دیکھتے ہی کہنے لگا کہ آپ نے بڑی دیر لگا دی، جلدی کریں اور سامان رکھوائیں۔چنانچہ اس نے مزدوروں پر زور دے کر جلدی جلدی میرا سامان جہاز میں رکھوایا اور پھر بڑی ممنونیت کا اظہار کیا کہ آپ نے ہمیں ٹکٹ لے دیئے ورنہ ہمارا سوار ہونا تو بالکل ناممکن تھا۔جب ہم جہاز میں سوار ہو گئے تو میں نے اُن سے پوچھا کہ آپ کا نام کیا ہے؟ کہنے لگے میرا نام خالد ہے اور میں نواب جمال الدین خاں صاحب آف بھوپال کا نواسا ہوں۔غرض خدا تعالیٰ کی قدرت دیکھو کہ اُس نے ایک کو ہیضہ سے مارا اور دوسرے کو احسان سے مارا۔یہ خالد صاحب اب بھی زندہ ہیں اور بھوپال کے دوستوں کے خط آتے جاتے رہتے ہیں کہ ہمیشہ ہم سے ملتے اور اچھے تعلقات رکھتے ہیں۔اس کے بعد سارے سفر میں و میرے ممنونِ احسان رہے اور اصرار کرتے رہے کہ میں اُن کے ساتھ کھانا کھاؤں یا چائے وغیرہ پیوں مگر میں انکار کرتا رہا۔آخر ایک دن انہوں نے بہت ہی اصرار کیا تو میں نے چائے کی ایک پیالی پی لی۔اس کے بعد بھی وہ بمبئی تک برابر شکر گزاری اور ممنونیت کے جذبات کا اظہار کرتے رہے۔اس جہاز میں بمبئی کے ایک سیٹھ کا لڑکا بھی سوار تھا جو حج کے لیے گیا ہوا تھا۔اُس کا ایک لطیفہ بھی مجھے یا د رہتا ہے۔میں نے مٹی میں دیکھا کہ ذکر الہی کرنے کی بجائے وہ اردو کے عشقیہ اشعار پڑھتا جا رہا تھا۔مجھے تعجب ہوا کہ یہ حج کے لیے آیا ہے مگر اس کی حالت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کی بجائے عشقیہ اشعار پڑھتا جا رہا ہے۔واپسی پر جب ہم جہاز میں اکٹھے ہوئے اور اسے معلوم ہوا کہ میں احمدی ہوں تو وہ بار بار کہتا کہ خدایا ! یہ جہاز بھی غرق نہیں ہوتا جس میں ایسا شخص سوار ہے۔میں اُس وہ