خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 143

143 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 اُس نے آپ کا دامن پکڑ لیا اور اسے محبت کے ساتھ بوسہ دیتے ہوئے کہا کہ یا رسول اللہ ! آپ نے یہ کیا کیا کہ آپ کے متعلق ایسی خبر مشہور ہو گئی۔گویا اس صدمہ اور جنون کی حالت میں اُسے یہ بھی ہوش نہ رہا کہ کیا کوئی آپ بھی اپنے متعلق ایسی خبر مشہور کیا کرتا ہے اور کہنے لگی یا رسول اللہ ! یہ جھوٹی خبر بھی آپ کے متعلق کیوں مشہور ہوگئی۔یہ وہ بہادر عور تیں تھیں جنہیں اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں کسی اور چیز کی پروا نہیں ہوتی تھی کیونکہ ان کے اندر سچا ایمان پایا جاتا تھا وہ جانتی تھیں کہ اصل چیز محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہے۔اگر اس راستہ میں ہمارا باپ مارا جاتا ہے یا خاوند مارا جاتا ہے یا بھائی مارا جاتا ہے تو ہمیں خدا تعالیٰ کی رضا کے لیے اس صدمہ کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنا چاہیے اور خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کو سب سے مقدم سمجھنا چاہیے۔اسی طرح جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُحد سے واپس آ رہے تھے تو ایک انصاری جن کا ایک بھائی اس جنگ میں مارا گیا تھا اس فخر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھوڑے کی باگ پکڑے چلے آ رہے تھے کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیریت سے مدینہ میں لے آئے ہیں۔جب آپ مدینہ کے دروازہ پر پہنچے تو وہاں ایک عورت کھڑی تھی۔وہ انصاری کہنے لگے یا رسول اللہ ! میری ماں۔یا رسول اللہ ! میری ماں۔ان کا منشا یہ تھا کہ یہ میری بُڑھیا ماں ہے اور اس کا بیٹا جنگ میں کو مارا گیا ہے جس کی وجہ سے اسے شدید صدمہ ہو گا، آپ اس کی دلداری فرمائیں۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم قریب پہنچے تو آپ نے فرمایا مائی! مجھے بڑا افسوس ہے کہ تیرا بیٹا اس جنگ میں مارا گیا ہے۔اس کی بینائی کمزور تھی، اس نے بتر بتر 5 دیکھنا شروع کر دیا کہ یہ آواز مجھے کہاں سے آ رہی ہے۔جب اس کی نظر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ پر ٹک گئی اور اس نے آپ کو پہچان لیا تو وہ کہنے لگی یا رسول اللہ ! آپ بھی کیسی باتیں کرتے ہیں؟ جب آپ سلامت ہیں تو پھر میرے بیٹے کی وفات کیا چیز ہے کہ اس کا ذکر کیا جائے۔6 قربانی اور اخلاص اور فدائیت کے یہ عظیم الشان نمونے صحابہؓ نے اسی لیے دکھائے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سچے دل سے ایمان لائے تھے اور ہر قدم پر آپ کی اطاعت کرنا فرض سمجھتے تھے۔چنانچہ سرولیم میور اپنی کتاب ”لائف آف محمد میں لکھتا ہے کہ احزاب میں کفار کا اتنا بڑ الشکر جمع ہوا مگر پھر بھی شکست کھا گیا۔اس کی وجہ صرف یہی تھی کہ کفار سے ایک سیاسی غلطی ہوئی اور وہ یہ کہ