خطبات محمود (جلد 39) — Page 135
$1958 135 خطبات محمود جلد نمبر 39 ہوں مجھے مسیح کی طرح خدائی صفات نہ دے دینا، میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں اور تمہارے جیسا ایک انسان ہوں۔جیسے مسیح حضرت مریم کے بیٹے تھے مگر عیسائیوں نے تو اُن کو خدا بنا لیا تم مجھے خدا نہ بنا لینا کی اور میرے انسان ہونے کو کبھی فراموش نہ کرنا۔اُس وقت وہی شخص جو آپ پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا اور جس کا نام شیبہ تھا آپ کی طرف بڑھا اور اس نیت سے بڑھا کہ اس وقت آپ اکیلے ہیں اور آپ کے ساتھی بھاگ چکے ہیں میں خنجر مار کر آپ کو مار ڈالوں گا مگر جب وہ آگے بڑھا تو وہ خود کہتا ہے کہ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میرے اور آپ کے درمیان آگ کا ایک شعلہ بھڑک رہا ہے اور اگر میں آپ کے اور قریب ہوا تو وہ شعلہ مجھے بھسم کر دے گا۔اتنے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے دیکھ لیا اور فرمایا کھیہ ! ادھر آؤ۔جب وہ آپ کے قریب گیا تو آپ نے اپنا ہاتھ اُس کے سینہ پر پھیرا اور فرمایا ہے اے خدا ! شیبہ کو ہر قسم کے شیطانی خیالات سے نجات دے اور اس کے دل سے ہر قسم کا بغض اور کینہ نکال دے۔وہ کہتا ہے آپ کا ہاتھ ابھی میرے سینہ سے علیحدہ نہیں ہوا تھا کہ میرے دل میں آپ کی محبت کا اتنا جوش پیدا ہو گیا کہ یا تو میں آپ کو قتل کرنے کی نیت سے آیا تھا اور یا میرے دل میں اس وقت اگر کوئی خواہش تھی تو صرف یہی کہ میرا ہر ذرہ آپ پر قربان ہو جائے۔پھر میں نے اپنی تلوار نکال لی اور آگے بڑھ کر دشمن کا مقابلہ کرنا شروع کر دیا اور خدا کی قسم ! اگر اُس وقت میرا باپ بھی آپ پر حملہ کرنے کے لیے آگے آتا تو میں تلوار سے اُس کی گردن اڑا دیتا۔12 اس واقعہ پر غور کرو اور دیکھو کہ کس طرح یکدم اُس کے اندر محبت پیدا ہوگئی اور یا تو وہ آپ کو قتل کرنے کی نیت سے آیا تھا اور یا وہ کہتا ہے کہ اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرتے ہوئے میں ٹکڑے ٹکڑے بھی ہو جاتا تو مجھے بڑی خوشی ہوتی اور اگر ایسی حالت میں میرا باپ بھی میرے سامنے آتا تو میں اپنے باپ کی گردن اڑانے سے بھی دریغ نہ کرتا۔یہ عملی ثبوت ہے اس بات کا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ اُسے ایک منٹ میں کھینچ کر اپنے پاس لے گیا۔آخر شیبہ نے کونسی تپسیا کی تھی ؟ کب وہ ساٹھ سال تک جنگلوں میں رہا؟ کب اُس نے بدھ کی طرح اپنی خواہشیں ماریں؟ اُس نے تو اتنی گندی خواہش کی تھی کہ جس سے بڑی گندی خواہش اور کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔اُس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوقتل کرنے کی خواہش کی تھی مگر وہی شخص جو گندی سے گندی خواہش لے کر آیا تھا ایک منٹ کے اندر اندر اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا ، اس کی محبت کی