خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 121

121 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 اور تمہارا حد سے بڑھ جانا چاہتا تھا کہ میں تمہیں سزا دوں لیکن میں رحیم خدا ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ کسی طرح تم اس سزا سے بچ جاؤ۔اس لیے باوجود تمہاری نافرمانیوں کے اور باوجود تمہارے اعراض کے اور باوجود تمہارے حد سے بڑھ جانے کے میں ہمیشہ تمہاری طرف اپنی وحی نازل کرتا رہتا ہوں اور کی تمہیں ہدایت کی راہوں کی طرف بلاتا رہتا ہوں تا کہ تم میں سے جو ہدایت پاسکیں وہ ہدایت پا جائیں کی اور جنہیں سزا ملے وہ یہ نہ کہیں کہ ہمارے باپ دادوں سے جو قصور ہوا تھا اُس کی ہمیں کیوں سزا دی گئی ہے۔ممکن ہے اگر ہمارے پاس تیری ہدایت آتی یا تیرے احکام کی طرف توجہ دلانے والا کوئی رسول آتا جی تو ہم اُن سے زیادہ شریعت پر عمل کر کے دکھا دیتے۔پس اس الزام سے بچنے کے لیے میں لوگوں کی طرف اپنی تازہ ہدایت بھیجتا ہوں تا کہ ان کو اس اعتراض کا موقع نہ ملے اور وہ اپنی اصلاح کر لیں اور خدا تعالیٰ کی نافرمانی کرنے اور اُس کے احکام سے گریز کرنے کی سزا سے بچ جائیں۔یہ ایک ایسی سچائی ہے جس کا ہر زمانہ میں ہمیں ثبوت نظر آتا ہے مگر پھر یہ دیکھ کر حیرت آتی ہے کہ کس طرح انسان خدا تعالیٰ کے اس انعام کو ٹھکرا دیتا اور اس کے احکام کی نافرمانی کرنے لگ جاتا ہے۔ایک انسان جو اپنے اندر کوئی طاقت نہیں رکھتا اور سخت کمزور ہوتا ہے وہ بھی جب کوئی حکم دیتا ہے اور دوسرا شخص اُسے نہیں مانتا تو وہ غصے میں آجاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے آدم کو بھیجا تو ابلیس جیسے لوگ اس کے مقابلہ کے لیے کھڑے ہو گئے ، نوح کو بھیجا تو تمام قوم نے ان کا انکار کیا یہاں تک کہ حضرت نوح خود کہتے ہیں کہ میں نے ان لوگوں کو علیحدگی میں بھی سمجھایا اور مجلس میں بھی سمجھایا، رات کو بھی سمجھایا اور دن کو بھی سمجھایا مگر انہوں نے خدا کے کلام کو قبول کرنے سے ہمیشہ اعراض کیا اور کبھی بھی اس کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہوئے۔2 پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام آئے تو اُن کا انکار کیا گیا، لوط آئے تو ی اُن کا انکار کیا گیا، اسحاق آئے تو اُن کا انکار کیا گیا ، یعقوب اور یوست آئے تو اُن کا انکار کیا گیا، پھر حضرت موسی علیہ السلام آئے تو اُن کا انکار کیا گیا، ایلیاء آئے تو اُن کا انکار کیا گیا، حز قیل آئے تو اُن کا انکار کیا گیا، سر میاں آئے تو اُن کا انکار کیا گیا، حضرت عیسی علیہ السلام آئے تو اُن کا انکار کیا گیا ، پھر آخر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو اُن کا بھی انکار کیا گیا مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی طاقت اور قوت کے باوجود اور بنی نوع انسان کی انتہا درجہ کی ناشکریوں اور اعراض کے باوجود انسانوں سے اپنا کلام نہ روکا بلکہ برابر اُن کو یہ انعام دیتا چلا گیا۔چنانچہ اس امت میں بھی ہزاروں بزرگ ایسے