خطبات محمود (جلد 39) — Page 107
$1958 107 خطبات محمود جلد نمبر 39 اس بات کی قطعاً پروا نہ کرتا کہ تو میرا بیٹا ہے۔15 اب آپ لوگ دیکھ لیں کہ ایسے غیرت مند لوگوں کی کے لیے اہل مکہ کو معاف کرنا کس قدر مشکل تھا لیکن انہوں نے معاف کیا بلکہ اُن لوگوں کو بھی جنہیں ای معاف کیا گیا تھا یہ بات بڑی عجیب معلوم ہوئی اور وہ حیران ہوئے کہ انہیں کیسے معاف کیا گیا ہے۔ابو جہل کا بیٹا عکرمہ اُن لوگوں میں شامل تھا جن کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا تھا کہ ان کے بعض ظالمانہ قتلوں اور ظلموں کی وجہ سے انہیں قتل کر دیا جائے۔چنانچہ وہ ڈر کے مارے حبشہ کی طرف بھاگ گیا۔اس کی بیوی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اُس نے کہا یا رسول اللہ ! کیا آپ کو یہ اچھا لگتا ہے کہ آپ کے بھائی کا بیٹا عکرمہ آپ کے ماتحت رہے یا یہ اچھا لگتا ہے کہ وہ حبشہ جا کر عیسائیوں کے ماتحت رہے؟ آپ نے فرمایا وہ بیشک یہاں رہے ہم اُسے کچھ نہیں کہیں گے، ہم اُسے معاف کرتے ہیں۔اُس نے کہا وہ ساحلِ سمندر کی طرف بھاگ کر چلا گیا ہے اور اس انتظار میں ہے کہ اُسے کوئی کشتی مل جائے تو وہ اُس میں سوار ہو کر حبشہ چلا جائے۔کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ میں وہاں جا کر اُسے واپس مکہ لے آؤں؟ آپ نے فرمایا ہاں! میں اجازت دیتا ہوں، تم بڑی خوشی سے اُسے واپس لے آؤ۔عکرمہ کی بیوی نے پھر کہا یا رسول اللہ ! وہ بڑا غیرت مند ہے۔شاید آپ کے دل میں یہ خیال ہو کہ وہ یہاں آ کر مسلمان ہو جائے گا وہ مسلمان نہیں کی ہوگا۔کیا آپ اس امر کی بھی اجازت دیتے ہیں کہ وہ اپنے آباء واجداد کے مذہب پر قائم رہ کر یہاں رہے؟ آپ نے فرمایا وہ بیشک اپنے مذہب پر قائم رہے ہم اُسے مسلمان ہونے پر مجبور نہیں کریں گے۔چنانچہ وہ مکرمہ کے پیچھے ساحل سمندر پر پہنچی۔عکرمہ ابھی کشتی پر سوار نہیں ہوئے تھے۔اُس نے کہا اے میرے چچا کے بیٹے! ( عرب عورتیں اپنے خاوندوں کو چا کا بیٹا کہا کرتی تھیں) کیا تجھے یہ بات اچھی لگتی ہے کہ تو اپنے بھائی کے ماتحت رہے یا یہ بات اچھی لگتی ہے کہ تو کسی غیر ملک میں جا کر کسی غیر بادشاہ کے ماتحت رہے؟ عکرمہ نے کہا کیا تجھے پتا نہیں کہ اگر میں مکہ میں رہا تو میں مارا جاؤں گا؟ بیوی نے کہا نہیں میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کر لی ہے۔اگر تو مکہ میں واپس چلا جائے گا تو تجھے مارا نہیں جائے گا، تجھے پناہ دی جائے گی۔عکرمہ کہنے لگے تو مجھ سے دعا تو نہیں کر رہی ؟ وہ کہنے لگی کیا میں اپنے خاوند سے دعا کروں گی؟ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارہ میں اجازت حاصل کر کے آئی ہوں۔چنانچہ عکرمہ مان گئے اور وہ اپنی بیوی کے ساتھ مکہ واپس گئے۔مکہ