خطبات محمود (جلد 38) — Page 87
$1957 87 خطبات محمود جلد نمبر 38 آتا ہے کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر حملہ کیا تھا۔تب میں نے بلند آواز سے کہا کہ اے احمد یو! تمہاری نادانی اور غفلت میں یہ لوگ ایک دفعہ پہلے حملہ کر چکے ہیں۔اب تم کو پتا ہے کہ یہ لوگ حملہ کی نیت سے آئے ہیں؟ اگر اب تم ان لوگوں کے شر کو دور کرنے کے لیے آگے نہ آئے تو تم خدا تعالی کی گرفت میں آؤ گے اور تمہیں سزا ملے گی۔کیونکہ پہلی دفعہ تو تمہیں اس لیے معاف کر دیا گیا کہ انہوں نے تمہاری غفلت اور نادانی میں حملہ کیا تھا۔مگر اب تم دیکھ رہے ہو کہ یہ لوگ تم پر حملہ کرنے کے لیے آئے ہیں اور بار بار میں اونچی آواز سے کہتا ہوں۔اے احمد یو! آگے بڑھو۔اے احمد یو! آگے بڑھو۔میرے اس کہنے پر چند غیر احمدی کود کر اندر آگئے اور اُن میں سے ایک میرے پیچھے کی طرف چلا گیا اور دو میرے سامنے آگئے۔جو شخص میرے پیچھے کی طرف گیا۔اس نے اپنے ہاتھ میری کمر کے گرد ڈال لیے ہیں جسے پنجابی میں چٹھا مارنا کہتے ہیں۔اس نے مجھے جتھا مارا ہوا ہے یعنی اس نے میری کمر کو بھی پکڑا ہوا ہے اور میرے ہاتھ بھی پکڑے ہوئے ہیں۔اُس وقت میرے ہاتھ میں ایک پستول ہے۔ان لوگوں کے گودنے سے پہلے میں نے پستول چلانے کی کوشش کی مگر لبلبی دبی نہیں۔میں نے اُس کو دبانے کے لیے بہتیرا زور لگایا مگر وہ نہیں دبی۔جب میرے زور لگانے کے باوجود بھی لہلی نہیں دبی تو میں نے رویا میں ہی سمجھا کہ یہ اصلی گولی والا پستول نہیں بلکہ کھلونا ہے لیکن ایسا کھلونا ہے جو آجکل نئے بنے ہوئے ہیں۔یعنی وہ ایسا بھاری بنا ہوا تھا کہ بڑے بھاری پستول کے برابر معلوم ہوتا تھا۔پس میں نے اپنے دل میں سمجھا کہ اگر لبلبی دبی نہیں تو کوئی حرج نہیں۔میں اُس کا گند 11 جو بڑا بھاری ہے اُن کے سر پر ماروں گا اور یہ بے ہوش ہو جائیں گے۔چنانچہ میں نے پستول کا گندا ان غیر احمدیوں کے سر پر مارنے کی کوشش کی جو گود کر میرے سامنے آگئے تھے۔مگر چونکہ ایک دوسرے شخص نے میری کمر اور میرے ہاتھ پیچھے کی طرف سے پکڑے ہوئے تھے اس لیے جب میں گند امارتا تھا۔تو چوٹ اچھی ہو طرح نہیں لگتی تھی۔اس طرح وہ بیہوش ہو کر گرے تو نہیں مگر یوں معلوم ہوا جیسے نیم بیہوشی کی حالت طاری ہوگئی ہے۔پیچھے کی طرف سے ہاتھ پکڑے ہوئے ہونے کی وجہ سے میرا ہاتھ کبھی کبھی اچٹ بھی جاتا ہے اور اس طرح اُن دو چار احمدیوں کو بھی جا لگتا ہے جو گو دکر اندر آگئے ہیں۔میں اُن کو بچانے کی کوشش کرتا ہوں مگر بوجہ اس کے کہ میرے ہاتھ پکڑے ہوئے ہیں انہیں پستول کا گندا جا لگتا ہے جس کی وجہ سے وہ بھی بیہوش سے ہیں لیکن غیر احمدیوں سے کم بیہوش ہیں۔غیر احمدی تو نیم بیہوش ہیں لیکن