خطبات محمود (جلد 38) — Page 46
$1957 46 خطبات محمود جلد نمبر 38 چاہیں مل جائیں۔اور اگر کوئی تحریک اس بات میں روک بنتی ہو تو خدا تعالیٰ اسے کامیاب نہ کرے۔پھر اللہ تعالیٰ ہمارے اہلِ مملکت کو بھی ایسی سمجھ عطا فرمائے کہ وہ وقت پر ہوشیار ہو جائیں اور دیکھیں کہ کون کی شخص انہیں سیدھے رستہ سے ہٹا رہا ہے۔اور ہمیشہ وہ طریق اختیار کریں جو پاکستان کی عزت اور سرفرازی کا بھی موجب ہو اور کشمیر کی عزت اور سرفرازی کا بھی موجب ہو۔ہم کسی کے بدخواہ نہیں۔ہم ہندوستان کے لیے بھی بددُعا نہیں کرتے۔ہاں پاکستان اور کشمیر کے لیے دعائیں ضرور کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ان کا سراو نچا کرے۔اگر کوئی شخص پاکستان کے سر اونچا ہونے میں یا کشمیر کے سر اونچا ہونے میں اپنی ذلت اور اپنا ناک کشادیکھتا ہے تو یہ اُس کا اپنا قصور ہے ورنہ ہم کسی کے خلاف بد دعا نہیں کرتے۔ہم تو اپنے خیر خواہوں اور دوستوں کے لیے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اُن کا سر اونچا کرے اور اپنے ملک کے لیے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا سر اونچا کرے۔کشمیری بھی ہمارے بھائی ہیں اور چونکہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔اس لیے کشمیر بھی ہمیں بہت پیارا ہے۔پھر کشمیر ہمیں اس کی لیے بھی پیارا ہے کہ وہاں قریباً اسی ہزار احمدی ہیں۔اور بعض ایسے علاقے جن کی رائے کے مطابق شمیر یا ہندوستان میں جاسکتا ہے یا پاکستان میں جاسکتا ہے ان میں احمدیوں کی اکثریت ہے۔پس ان دونوں وجوہ سے یعنی اس لحاظ سے بھی کہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور اس لحاظ سے بھی کہ جس علاقہ کے ووٹ کشمیر کے ہندوستان یا پاکستان میں جانے کے متعلق فیصلہ کریں گے وہاں احمدیوں کی اکثریت ہے ہمیں کشمیر بہت پیارا ہے۔اگر وہ علاقہ یہ فیصلہ کر دے کہ ہم پاکستان کی طرف جانا چاہتے ہیں تو کشمیر اور ہندوستان کا تعلق کٹ جاتا ہے کیونکہ وہی علاقہ کشمیر اور ہندوستان کو آپس میں ملاتا ہے۔پس ہمیں دعائیں کرتے رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے کشمیری بھائیوں کی مدد کرے۔آخر کشمیر وہ ہے جس میں مسیح اول دفن ہیں اور مسیح ثانی کی بڑی بھاری جماعت وہاں موجود ہے۔گویا دونوں مسیحوں کا وہاں قبضہ ہے۔پہلے مسیح کا جسم وہاں دفن ہے اور دوسرے مسیح کی روح وہاں دفن ہے یعنی احمدی وہاں رہتے ہیں۔پس کشمیر دونوں مسیحوں کا ہے۔پہلے مسیح کا اس طرح کہ اس کا جسم وہاں دفن ہے۔وہ مسیح اب عیسائیوں کا تو رہا نہیں کیونکہ عیسائیوں نے تو اسے خدا بنالیا ہے اور اگر اس کا جسم وہاں دفن ہے تو وہ انسان ہے خدا نہیں۔پس پہلے میچ کے لحاظ سے لوتو ، اور دوسرے مسیح کے لحاظ سے لو تو کشمیر مسلمانوں کا بنتا ہے۔وہ نہ عیسائیوں کا بنتا ہے اور نہ ہندوؤں کا بنتا ہے کیونکہ مسیح اول نہ ہندو