خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 47

$1957 47 خطبات محمود جلد نمبر 38 تھے اور نہ عیسائی تھے اور مسیح ثانی بھی نہ ہندو تھے اور نہ عیسائی تھے بلکہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم تھے اور اسلام کی عزت ظاہر کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں مبعوث کیا تھا۔پس جس ملک میں دو مسیحوں کا دخل ہے وہ ملک بہر حال مسلمانوں کا ہے اور مسلمانوں کو ہی ملنا چاہیے۔اس لیے ہمیں دعائیں کرتے رہنا چاہیے۔دیکھو! اس میں ہماری کتنی ذلت ہے کہ مسیح اوّل جس کو ہم خدا تعالیٰ کا ایک نبی مانتے ہیں اُس کا مقدس روضہ ہندوؤں کے ہاتھ میں چلا جائے۔پھر اس میں بھی ہماری کتنی ذلت ہے کہ مسیح ثانی جس کو ہم اسلام کا سچا خادم اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غلام سمجھتے ہیں اور اس زمانہ کا مصلح سمجھتے ہیں اُس کی جماعت کی بڑی تعداد جو اپنے ملک میں اہم پوزیشن رکھتی ہے ہندوؤں کی طرف چلی جائے۔کشمیر کی ساری آبادی جموں کو ملا کر چالیس لاکھ کی ہے۔صرف کشمیر کی آبادی بائیس لاکھ کی ہے۔ممکن ہے اب فرق ہو گیا ہو۔اس بائیس لاکھ میں سے اگر اسی ہزار احمدی ہیں تو اس کے معنے یہ ہیں کہ قریبی 1/22 فیصدی احمدی ہیں اور اتنی بڑی اکثریت احمدیوں کی اور کسی ملک میں نہیں۔پس اسی ہزار بھائیوں کا حق خودارادیت سے محروم ہو جانا بہت بڑے صدمہ کی بات ہے۔ہمیں ہر وقت خدا تعالیٰ سے دعائیں کرتے رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے مستقبل کے متعلق خود فیصلہ کرنے کی توفیق بخشے۔اور جس طرح کہتے ہیں ”جہاں کی مٹی تھی وہیں آ لگی وہ جہاں کی مٹی ہیں وہیں آ لگیں اور ان کے رستہ میں کوئی منصوبہ اور کوئی سازش روک نہ بنے۔خطبہ ثانیہ کے بعد حضور نے فرمایا: نماز جمعہ کے بعد میں بعض جنازے پڑھاؤں گا۔ایک جنازہ تو بی صاحبہ چاہ بھا گو والا ضلع ملتان کا ہے۔اطلاع دینے والے نے لکھا ہے کہ مرحومہ نیک سیرت اور مخلص خاتون تھیں۔دوسرا جنازہ والدہ صاحبہ شیخ عبدالحق صاحب ایگزیکٹو انجنیئر کراچی کا ہے۔مرحومہ صحابیہ اور موصیہ تھیں۔تیسرا جنازہ حکیم عبدالرحمان صاحب تاندلیا نوالہ کا ہے جو فضل دین صاحب عرف عبداللہ کے لڑکے تھے۔فضل دین صاحب لنگر خانہ قادیان میں باورچی تھے اور اس سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نائی تھے۔وہ