خطبات محمود (جلد 38) — Page 192
$1957 192 خطبات محمود جلد نمبر 38 حضرت محمد غوث صاحب جن کا مقبرہ لاہور میں ہے وہ کشمیر سے آئے تھے۔یہاں آکر اُن کی بھی بڑی مخالفت ہوئی۔غرض خواہ یہ بزرگ ملتان میں گزرے ہوں یا پاک پتن میں گزرے ہوں یا دتی میں گزرے ہوں یا اجمیر میں گزرے ہوں یا آگرہ میں گزرے ہوں یہ آیت ہمیشہ سچی ثابت ہوتی رہی ہے کہ ہم نے موسیٰ کو فرعون کے پاس اچھی تعلیم دے کر بھیجا تھا مگر لوگوں نے بُری تعلیم کو قبول کر لیا اور اچھی تعلیم کو قبول نہ کیا۔ہم دیکھتے ہیں کہ یہ سلسلہ اب تک چل رہا ہے اور نامعلوم کب تک چلتا جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد بے شک جماعت نے ترقی کی ہے لیکن مخالفت نے بھی ترقی کی ہے۔اور لوگوں کو اشتعال دلاتے ہوئے عام طور پر کہا جاتا ہے کہ یہ جماعت واجب القتل ہے اس کے افراد کو مار ڈالنا چاہیے۔بلکہ بعض اخباروں میں لکھا ہوتا ہے کہ احمدی جماعت نے پاکستان کے مقابلہ میں ایک متوازی حکومت بنائی ہوئی ہے گورنمنٹ پاکستان کو اس خطرہ کے انسداد کے لیے فوری کارروائی کرنی چاہیے۔لیکن دوسری طرف موجودہ سیلاب کے موقع پر ریڈیو پر اعلان کیا گیا کہ دریائے چناب پر ریلوے پل کے شگاف کو پر کرنے کے لیے خدام الاحمدیہ نے کام کیا اور آٹھ ہزار مکعب فٹ پتھر بھر کر اسے پُر کر دیا ہے۔جب قادیان میں ہماری جماعت کے افراد ہندوؤں اور سکھوں کا مقابلہ کر رہے تھے اُس وقت بھی لوگ ہماری جماعت کی بڑی تعریفیں کرتے تھے۔مگر پھر وہی لوگ مخالفت کرنے لگ گئے۔اب بھی تم دیکھو گے کہ آج تو ریڈیو نے احمدیوں کی تعریف کر دی ہے مگر کل پھر انہی اخباروں نے لکھنا ہے کہ احمدیوں سے بچنا چاہیے۔ان لوگوں نے پاکستان کے مقابلہ میں ایک متوازی حکومت بنا رکھی ہے۔اور اس کی دلیل وہ یہی دیں گے کہ دیکھو! ان لوگوں نے اپنی جانوں کو خطرہ میں ڈال کر چند گھنٹوں کے اندر اندر ریلوے پل کے ایک سوفٹ لمبے شگاف کو آٹھ ہزار مکعب فٹ پتھر بھر کر پُر کر دیا۔ہم پہلے ہی کہہ رہے تھے کہ حکومت کو ان لوگوں کے متعلق ہوشیار ہو جانا چاہیے۔اب اس تازہ واقعہ نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ لوگ پورے طور پر منظم ہو گئے ہیں اور ان سے سخت خطرہ درپیش ہے۔اُس وقت کوئی نہیں دیکھے گا کہ ان لوگوں نے جتنی طاقت استعمال کی ہے پاکستان کے استحکام کے لیے کی ہے۔کوئی نہیں دیکھے گا کہ ایسے خطر ناک موقع ہے مودودیوں نے اپنے آدمی نہیں بھجوائے، خدائی خدمتگاروں نے اپنے رضا کار نہیں بھجوائے۔