خطبات محمود (جلد 38) — Page 191
$1957 191 خطبات محمود جلد نمبر 38 گئے ہوئے تھے مجھے ملنے کے لیے آئے۔انہوں نے کہا آپ بتائیں کہ مسلمانوں کا کوئی علاج بھی ہوگا یا یہ اسی طرح آپس میں لڑتے رہیں گے؟ میں نے کہا جب تک آپ لوگ اپنے ملک کے مولویوں کے پیچھے چلتے رہیں گے یہی حال رہے گا۔پھر میں نے کہا ابھی مجھے اطلاع ملی ہے کہ آپ کا ایک مولوی نیروبی میں گیا اور اس نے لوگوں کو اُکسایا کہ احمدیوں کو مار ڈالو۔انہوں نے کہا واقعہ اس طرح نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ نیروبی سے ہمارے ہاں ایک مولوی آیا تھا اور اس نے لوگوں کو اشتعال دلایا تھا۔میں نے کہا اُدھر سے ادھر آیا ہو یا ادھر سے اُدھر گیا ہو تم نے مانی شیطان کی، خدا کی نہیں مانی۔تم کہتے ہو کہ زنجبار سے مولوی نہیں گیا تھا بلکہ نیروبی سے زنجبار آیا تھا مگر اس سے اتنا تو ثابت ہو گیا کہ تم مولویوں کے پیچھے چلے۔اور جب تک اس طرح کرتے رہو گے مسلمانوں کی لڑائی آپس میں جاری رہے گی۔وہ لڑکے تھے کہنے لگے ابھی تو ہم تعلیم حاصل کر رہے ہیں لیکن جب ہم واپس گئے تو ہم اپنے ان ملک میں رواداری کی تعلیم پھیلانے اور ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھنے کی کوشش کریں گے۔اس کے بعد جب وہاں ریڈیو پر بھی ہماری جماعت کے خلاف پراپیگنڈا ہونے لگا تو ہماری جماعت کے توجہ دلانے پر زنجبار کے بادشاہ نے احمدیوں کو بلایا اور کہا کہ ریڈیو سے جو اعلانات احمدیوں کے خلاف ہورہے ہیں آئندہ کے لیے میں انہیں بند کر دوں گا۔بہر حال جب سے اللہ تعالیٰ کے انبیاء و خلفاء کا سلسلہ جاری ہے۔صداقت کی ہمیشہ مخالفت ہوتی چلی آئی ہے۔اسی طرح جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت پر ایک لمبا عرصہ گزر گیا اور امت محمدیہ میں مختلف اولیاء پیدا ہوئے۔تب بھی یہی ہوا کہ لوگوں نے ان کی نہ سنی۔بلکہ ان کے دشمنوں کی سنی جو اپنے وقت کے فرعون تھے اور ان کے پیچھے چل پڑے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے صدیوں بعد حضرت سید احمد صاحب سرہندی ہوئے تو لوگوں نے جہانگیر کے کان بھرنے شروع کیسے کہ یہ شخص باغی ہے اسے جلدی سنبھالیں ورنہ سخت فتنہ پیدا ہو جائے گا۔اس پر جہانگیر نے انہیں گوالیار کے قلعہ میں قید کر دیا۔مگر پھر بعض لوگوں نے اُسے سمجھایا کہ یہ نیک آدمی ہے اسے رہا کر دو۔ایسا نہ ہو کہ تمہارا بیڑا غرق ہو جائے۔پھر ان کے بعد بھی جو بزرگ ہوئے ان سے یہی سلوک ہوا۔بلکہ اس سے پہلے حضرت معین الدین صاحب چشتی ، حضرت قطب الدین صاحب بختیار کاکی ، حضرت نظام الدین صاحب اولیاء اور حضرت فرید الدین صاحب شکر گنج " وغیرہ کی بھی مخالفت ہوئی۔