خطبات محمود (جلد 38) — Page 190
$1957 190 خطبات محمود جلد نمبر 38 تو آپ نے جو تعلیم دی وہ بنی نوع انسان کو فلاح اور کامیابی کے مقام تک پہنچانے والی تھی۔مگر آ۔کے وطن کے لوگوں نے اس کا انکار کر دیا اور چلے تو ابوجہل کے پیچھے چلے جو فرعون کا ایک روحانی قائم مقام تھا اور اُس کی ہر گندی اور فساد پھیلانے والی تعلیم کو انہوں نے قبول کر لیا۔مثلاً یہی کہ غریبوں اور مسکینوں کو کچھ نہ دو اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اعلیٰ درجہ کی تعلیم کو رڈ کر دیا۔آپ کے بعد بھی یہی ہوا۔حضرت ابو بکر خلیفہ ہوئے تو صحابہ آپ پر ایمان لے آئے۔مگر سارے عرب نے بغاوت کر دی اور انہوں نے وہی طریق اختیار کیا جو ابو جہل اور اس کے ساتھیوں نے اختیار کیا تھا اور اُس وقت کے فرعون کے پیچھے چل پڑے۔اُس وقت کے فرعون مسیلمہ کذاب، اسود عنسی اور سجاح وغیرہ تھے جنہوں نے جھوٹے طور پر نبوت کا دعوی کر دیا اور لوگ اُن کے متبع ہو گئے مگر جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح جانشین تھا اور لوگوں کے اندر صحیح اسلامی روح پیدا کرنے والا تھا اُس کو چھوڑ دیا۔پھر آپ کے بعد حضرت عمرؓ کو خدا تعالیٰ نے خلیفہ بنایا تب بھی یہی ہوا۔حضرت عمرؓ اپنی وفات کے قریب حج کے لیے گئے تو بعض کم بختوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ عمر مر جائیں گے تو ہم فلاں کو خلیفہ بنائیں گے اور کسی کی کی بیعت نہیں کریں گے 2۔پھر اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت حضرت عثمان خلیفہ ہوئے تو اُن کے زمانہ میں بھی عبداللہ بن سبا جیسے لوگوں نے فتنہ کھڑا کر دیا۔یہ شخص بھی مصری تھا جیسا کہ فرعون مصری تھا۔اور لوگوں نے اس کی بات ماننی شروع کر دی۔ان کے بعد حضرت علی خلیفہ ہوئے۔تب بھی لوگوں نے یہی طریق اختیار کیا۔حضرت علی کو پہلے تو خلیفہ بنے پر مجبور کیا گیا اور پھر ایک چھوٹا ساغذ رکر کے کہ معاویہ سے صلح کیوں کی ؟ انہی لوگوں نے جنہوں نے آپ کو خلافت کے لیے کھڑا کیا تھا بغاوت کر دی اور خوارج کے نام سے الگ ہو گئے۔اور انہوں نے دوصدیوں تک اسلام میں وہ تہلکہ مچایا کہ لوگوں کا امن بالکل برباد ہو گیا۔یہاں تک کہ تاریخوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ ایک صحابی سے انہوں نے پوچھا کہ بتاؤ تم علی کو کیا سمجھتے ہو؟ اُس صحابی نے کہا ایک نیک اور پاک انسان۔انہوں نے کہا عمر اور عثمان کو کیا سمجھتے ہو؟ اُس نے کہا اللہ کے خلیفے۔انہوں نے تلوار میان سے نکالی اور اُسے قتل کر دیا۔پھر یہ فتنہ صرف دو سو سال تک ختم نہیں ہوا بلکہ آج تک خارجیوں کا وجود چلا آ رہا ہے۔عمان میں زنجبار میں انہی کی حکومت ہے۔میں جب انگلینڈ گیا تو کچھ مسلمان طالبعلم جوز نجبار سے وہاں تعلیم حاصل کرنے کے ! لیے