خطبات محمود (جلد 38) — Page 119
119 $1957 خطبات محمود جلد نمبر 38 دو لاکھ روپیہ ٹیکس لگایا اور اسے وصول کر لیا۔پھر ان کے مرنے کے بعد ان کے اس بھائی سے جو زندہ ہیں پونے دولاکھ اور وصول کرلیا اور یہ کہہ دیا کہ پہلا ٹیکس گزشتہ پانچ سال کا تھا اور اس سے پہلے پانچ سالوں کا یہ ٹیکس ہے جو اب لیا جا رہا ہے۔اس طرح ان کی تجارت کو بالکل کچل کر رکھ دیا۔اپنے پاس سے ہی بناوٹی حساب بنالیا اور اس کے نتیجہ میں اس قدر رقم بطور انکم ٹیکس حاصل کر لی کہ اس بیچارے کو اپنی تجارت نیلام کرنا پڑی۔ہندوستان میں بھی اور پاکستان میں بھی انکم ٹیکس والوں کو وسیع اختیارات حاصل ہیں جن کی وجہ سے وہ ایسا کر لیتے ہیں۔بہر حال اس ظلم کے باوجود ہندوستان میں بھی بعض متمول دوست ایسے ہیں جو پندرہ پندرہ ، ہمیں نہیں ہزار چندہ ایک وقت میں دے سکتے ہیں۔ان کی تجارت بہت اچھی ہے۔اور پاکستان میں تو ہیں ہی۔کراچی میں ایک دوست نے باتوں باتوں میں مجھے سے ذکر کیا کہ دو چار لاکھ روپیہ تو میں بھی لگا سکتا ہوں اور کہا کہ کراچی میں جو میری جائیداد ہے اسے میں ٹھیک طرح استعمال کروں تو پچاس ہزار روپے ماہوار آ سکتا ہے۔گویا اس کی سالانہ آمد چھ لاکھ روپیہ ہو جاتی ہے اور تین سال میں اٹھارہ لاکھ روپیہ آ جاتا ہے۔تو دیکھ لو اس دوست کے لیے پندرہ بیس ہزار ایک وقت میں دے دینا کونسا مشکل امر ہے۔ہماری جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اس رقم کی متمول دوستوں میں تحریک کر کے چندہ اکٹھا کریں اور مساجد کی تعمیر کریں۔بعض بڑے بڑے شہروں کے دوستوں میں بخل بھی پایا جاتا ہے۔مثلاً سیالکوٹ ہے اس میں اب تک ہماری نئی مسجد بن جانی چاہیے تھی۔لیکن انہوں نے نہیں بنائی۔اسی طرح لاہور میں نئی مسجد بن جانی چاہیے تھی لیکن وہ ابھی تک بننے میں نہیں آئی۔ملتان سے بھی جماعت کے امیر آئے تھے اور انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ میں تو مسجد بنانے کے لیے تیار ہوں لیکن مجلس عامہ کے ممبران میرے ساتھ متفق نہیں ہوئے۔میں نے بڑی کوشش کر کے ایک مکان کا انتظام کر لیا ہے لیکن ممبران مجلس عاملہ کے تائید نہ کرنے کی وجہ سے میں مجبور ہوں۔پریذیڈنٹ ہونے کی وجہ سے مجھے اس کے اتفاق کی ضرورت ہے۔میں نے کہا مجبور میں بھی ہوں۔قانون شکنی میں بھی نہیں کر سکتا۔ناظر اعلیٰ سے بات کرو ممکن ہے وہ کوئی صورت نکال دیں۔مسجد تو ضرور بنی چاہیے۔اسکے متعلق اگر کوئی قانون ہے تو اگر چہ وہ مجھے یاد نہیں لیکن اس کو توڑنا میرا کام نہیں۔اس میں سے راستہ نکالنا ناظر اعلی کا کام ہے۔ان کے پاس چلے جاؤ۔امید ہے وہ کوئی رستہ نکال دیں گے اور تمہاری خواہش پوری ہو جائے گی اور مسجد بن جائے گی۔