خطبات محمود (جلد 38) — Page 71
71 $1957 خطبات محمود جلد نمبر 38 اور ان کو لکھنا آتا تھا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث لکھا کرتے تھے مگر بعد میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ایسا کرنے سے منع کر دیا اور فرمایا میں قرآن کریم لکھواتا ہوں اس لیے ایسا نہ ہو کہ کوئی لکھی ہوئی چیز دیکھ کر لوگوں کو یہ محبہ پیدا ہو کہ وہ بھی قرآن کریم کا ہی حصہ ہے۔جب ان کے والد عمرو بن عاص فوت ہونے لگے تو یہ ان کی خبر لینے کے لیے گئے۔موت کے وقت اُن کی حالت کرب اور گھبراہٹ کی تھی۔کبھی آپ ادھر کروٹ بدلتے اور کبھی اُدھر کروٹ لیتے اور کہتے یا اللہ! مجھے معاف کر۔مجھے معلوم نہیں میں نے کیا کیا گناہ کیے ہیں۔عبداللہ بن عمرو نے کہا باپ! آپ گھبراتے کیوں ہیں؟ آپ کا انجام تو اچھا ہی ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے کی توفیق دی اور اب تک اسلام پر قائم رکھا۔پھر آپ کو فکر کرنے کی کیا ضرورت ہے۔حضرت عمرو بن عاص کہنے لگے میرے بیٹے ! تم ٹھیک کہتے ہو خدا تعالیٰ نے فضل کیا اور مجھے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے کی توفیق دی لیکن کاش! میں اُسی وقت ما را جاتا اور مجھے شہادت نصیب ہو جاتی۔میرے بیٹے ! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت علی اور حضرت معاویہ میں لڑائیاں ہوئیں اور میں ان میں حضرت معاویہؓ کی طرف سے حصہ لیتا رہا۔مجھے پتا نہیں کہ ان لڑائیوں میں مجھ سے کیا کیا غلطیاں ہوئیں۔اس خیال کے آنے پر مجھے گھبراہٹ ہوتی ہے کہ معلوم نہیں خدا تعالیٰ مجھے معاف بھی کرے گا یا نہیں۔پھر آپ نے فرمایا میرے بیٹے ! جب میں اسلام کا دشمن تھا تو میری دشمنی کا یہ حال تھا کہ اگر مجھے پتا لگتا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سامنے گلی میں آرہے ہیں تو میں اپنی آنکھیں بند کر لیتا تا مجھے نَعُوذُ بِاللهِ آ۔کی منحوس شکل نظر نہ آئے۔اور اگر کوئی مجھ سے پوچھتا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کے رشتہ دار ہیں اُن کا حلیہ کیا ہے؟ تو میں آپ کا حلیہ نہیں بتا سکتا تھا۔کیونکہ جب ان کی شکل سامنے آتی تھی میں آنکھیں بند کر لیتا تھا۔پھر جب میں ایمان لایا تو خدا تعالیٰ نے مجھے ایسا ایمان بخشا کہ آپ کی محبت اور رعب کی وجہ سے میں آپ کے چہرہ پر نظر نہیں ڈالتا تھا بلکہ آپ کے سامنے میں ہمیشہ اپنی آنکھیں بند رکھتا۔میں خیال کرتا تھا کہ آپ اتنے معزز اور اتنے اعلیٰ مقام پر ہیں کہ میرے جیسے ذلیل آدمی کو آپ کا چہرہ دیکھنے کا کوئی حق نہیں۔اے میرے بیٹے ! کفر کی حالت میں بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے سامنے آئے اور ایمان کی حالت میں بھی