خطبات محمود (جلد 38) — Page 72
$1957 72 خطبات محمود جلد نمبر 38 محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے سامنے آئے لیکن اگر اب بھی مجھ سے کوئی پوچھے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حلیہ کیا ہے تو میں نہیں بتا سکتا 6 کیونکہ کفر میں بغض کی وجہ سے میں نے آپ کی شکل نہیں دیکھی اور ایمان میں محبت اور رعب کی وجہ سے میں نے آپ کی شکل نہیں دیکھی۔اب دیکھو! عاص جیسے شدید دشمن اسلام کا بیٹا جو ایمان لانے سے پہلے خود بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سخت بغض رکھتا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کو ایمان لانے کی سعادت بخشی اور اسے ایسا مقام دیا کہ اس نے اسلام کے لیے بڑی بڑی جنگیں لڑیں اور مصر کو اسلام کے لیے فتح کی کیا۔حضرت عمرو بن عاص اُن لوگوں میں سے تھے جنہوں نے حضرت خالد بن ولید سے مل کر جنگِ اُحد کے موقع پر مسلمانوں پر حملہ کیا تھا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زخمی ہو کر دوسرے زخمیوں پر گر گئے تھے اور مسلمانوں کو شبہ ہو گیا تھا کہ آپ شہید ہو گئے ہیں۔ایسے شدید دشمن اسلام کو خدا تعالیٰ نے ایمان نصیب کیا۔تو یہ کتنی بڑی بات تھی۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا تم دیکھتے نہیں کہ ہم زمین کو اُس کے کناروں سے سمیٹتے چلے آرہے ہیں۔یعنی ان بڑے بڑے کافروں کی اولاد میں مسلمان ہورہی ہیں۔مسلمان جب پڑھتے ہوں گے کہ اسلام کے شدید دشمنوں ولید اور عاص کی اولا داسلام کی گود میں آگئی اور ان کے بیٹوں نے اسلام لانے کے بعد بڑی بڑی قربانیاں کیں تو ان کا ایمان کس قدر بڑھتا ہوگا۔پھر میں نے ہندہ کا واقعہ سنایا تھا۔اس کے بغض کی یہ کیفیت تھی کہ اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ کا کلیجہ نکلوایا اور آپ کے کان کٹوائے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو آپ نے جن لوگوں کے گرفتار کرنے اور قتل کرنے کا حکم دیا تھا ان میں ہندہ بھی شامل تھی کیونکہ اُس نے بھی کئی مسلمانوں کو قتل کروایا تھا۔آپ نے فرمایا ہندہ بھی پکڑی تھی جائے اور قتل کی جائے۔آپ نے سات آٹھ آدمی بتائے تھے کہ اُن سب کو پکڑ لیا جائے اور قتل کیا جائے۔ان میں آپ نے ہندہ کا نام بھی لیا تھا۔جب عورتوں کی بیعت کا وقت آیا اور آپ نے بیعت لینی شروع کی تو ہندہ بھی منہ چھپائے ان میں جا بیٹھی اور بیعت میں شامل ہو گئی۔جب قرآنی ہدایت کے مطابق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ اقرار لیا کہ ہم چوری نہیں کریں گی ، زنانہیں کریں گی، جھوٹ نہیں بولیں گی، شرک نہیں کریں گی تو اس آخری فقرہ پر کہ ہم شرک نہیں کریں