خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 43

خطبات محمود جلد نمبر 38 43 $1957 میں دیکھتا ہوں کہ پچھلے دنوں سے جہاں الہی تدبیر اس بات کے لیے ظاہر ہورہی ہے کہ دنیا میں امن کا قیام ہو اور صلح کی صورت پیدا ہو وہاں بعض لوگوں نے بعض دوسرے لوگوں میں ایسی تحریکیں شروع کر دی ہیں کہ جن سے وہ امن اور نیکی کے قائم ہونے میں روک بنیں۔مثلاً پچھلے دنوں میں نے کی پڑھا کہ شام یہ ارادہ کر رہا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کو یہ پیشکش کرے کہ ہم کشمیر کا فیصلہ کرا دیتے ہیں۔اور آج میں نے پڑھا ہے کہ سیلون کے وزیر اعظم بندرا نائکے نے کہا ہے کہ میں ارادہ کر رہا ہوں کہ پاکستان اور ہندوستان کو پیشکش کروں کہ کشمیر کے بارہ میں ہماری موجودگی میں اور ہمارے ذریعہ سے صلح ہو جائے۔یہ خبریں بتاتی ہیں کہ شیطان نے لوگوں کو دھوکا دینے کی کوشش شروع کر دی ہے۔بیشک اس میں ذریعہ تو آدمی ہی بنے ہیں جیسا کہ ہمیشہ سے آدمی ہی اس کا ذریعہ بنتے چلے آئے ہیں۔شیطان خود ظاہری طور پر دنیا میں نہیں آتا بلکہ وہ ہمیشہ بعض آدمیوں کو چن لیتا ہے۔چنانچہ اس وقت بھی اُس نے بعض آدمی چن لیے ہیں۔کسی جگہ اُس نے ہندوستان کے ایمبیسیڈ رکو چن لیا ہو گا کہ وہ کی شام کے پریذیڈنٹ سے کہے کہ آپ کوشش کریں کہ کسی طرح ہمارے اور پاکستان کے درمیان صلح ہو جائے۔لیکن دیکھنے والی بات یہ ہے کہ اگر واقع میں ان کے دلوں میں پاکستان کی خیر خواہی ہے تو وہ نوسال تک کہاں سوئے رہے۔1947ء میں کشمیر کا جھگڑا کھڑا ہوا تھا اور اب 1957 ء شروع ہے۔گویا اس جھگڑے پر 9 سال گزرے چکے ہیں۔9 سال کی خاموشی کے بعد آج صلح کی پیشکش کیوں ہو رہی ہے؟ اور پھر یہ پیشکش اُس وقت ہو رہی ہے جب یو۔این۔او نے کشمیر کے متعلق قدم اٹھایا ہے۔جب یو۔این۔او نے ایسا قدم اٹھایا ہے جس کے ذریعہ اُمید کی جاسکتی ہے کہ کشمیر کے لوگوں کو حق خودارادیت مل جائے تو اُسی وقت دو ممبروں نے یہ ارادہ ظاہر کیا کہ ہم پاکستان اور ہندوستان میں صلح کرا دیتے ہیں۔ہمارے ملک کے سیاستدانوں کو اس کے متعلق سوچنا چاہیے اور یہ خیال رکھنا چاہیے کہ کہیں وہ دھوکا میں نہ آجائیں۔ہم کوئی سیاسی جماعت نہیں صرف مذہبی لوگ ہیں لیکن چونکہ ہم بھی پاکستانی ہیں اس لیے ہمارا حق ہے کہ ہم بھی اپنی رائے ظاہر کریں۔اگر ہماری رائے دوسرے لوگوں کی سمجھ میں آ جائے گی تو وہ اسے اختیار کر لیں گے اور اس طرح اس میں زور پیدا ہو جائے گا۔اور اگر ہماری رائے دوسرے لوگوں کی سمجھ میں نہ آئی اور ہماری جماعت دعاؤں میں لگی رہی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے سیاستدانوں کے دلوں میں ایسی تحریک پیدا ہوگی کہ وہ اس قسم کی چالا کیوں میں