خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 26

$1957 26 خطبات محمود جلد نمبر 38 نے سنا ہے کہ انہیں نظر بند کر دیا گیا ہے مگر انہیں گاندھی جی نے میرے پاس بھیجا تھا۔پس ظاہر میں بھی ہم لوگوں کو ہمیشہ یہی احساس رہا ہے کہ اگر ہم جائیں تو آزادانہ طور پر جائیں اور سارے مسلمانوں کے لیے رستہ کھلا ہو۔صرف چند آدمیوں کا چلے جانا اور اُن کا قیدی کے طور پر رہنا اور ہندوؤں کی ٹھوکریں کھانا یہ ہم برداشت نہیں کر سکتے۔مسلمان جائے تو ایسے رنگ میں جائے کہ اُسے آزادی نصیب ہے پھر جب سارے مسلمان جائیں گے تو چونکہ ہم بھی اُن کے ساتھ ہیں اس لیے ہم بھی جائیں گے۔لیکن اگر اس رنگ میں کوئی شخص ہمارے سامنے پیشکش کرے کہ چند آدمی وہاں چلے جائیں اور رہیں تو یہ غلامی ہے اور اس غلامی کو ہم برداشت نہیں کر سکتے۔پس اللہ تعالیٰ سے یہی دعا ہے کہ وہ ایسا رستہ کھولے جس میں سب مسلمان آزادی کے ساتھ اس ملک میں جاکر رہ سکیں۔جہاں تک میرا عقیدہ ہے میں اس بات کا قائل ہوں کہ ہم اس قسم کی کوئی قید ہندوؤں پر بھی نہیں لگائیں گے۔فرض کرو اگر خدا تعالیٰ کے مد نظر یہ ہو کہ وہ فاتح کے طور پر مسلمانوں کو اُدھر لے جائے تب بھی اگر کوئی مجھ سے پوچھے گا تو میں یہی کہوں گا کہ وہی حق جو مسلمانوں کو حاصل ہیں ہندوؤں کو بھی دو اور سکھوں کو بھی دو۔اگر تم ہندوؤں اور سکھوں میں فرق کرتے ہو تو تم سچے مسلمان نہیں۔کیونکہ ہمارے آقا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلم اور غیر مسلم میں سیاست میں کبھی کوئی فرق نہیں کیا۔پس جہاں یہ درست ہے کہ اگر ہم جائیں گے تو اسی صورت میں جاسکتے ہیں جب باقی مسلمان بھی جائیں وہاں یہ بھی صحیح ہے کہ اگر ہم باقی مسلمانوں کے ساتھ جائیں تو خواہ فاتحانہ رنگ میں جائیں ہمارا معاملہ ہندوؤں اور سکھوں سے بھی ایسا ہی ہوگا جیسے مسلمانوں سے ہوگا۔ہم اُن کو بھی پوری آزادی دیں گے اور نہیں پورے حقوق دیں گے کیونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کوئی امتیاز این سیاست میں مسلم اور غیر مسلم میں روا نہیں رکھا۔اور نہ عجمی اور عرب میں رکھا تھا بلکہ سب کو برابر حقوق دیئے تھے۔وہی طریق ہمارا ہو گا۔دوسرے مسلمانوں میں تو ابھی یہ احساس نہیں پایا جاتا۔لیکن اُمید ہے کہ آہستہ آہستہ ان میں بھی یہ احساس پیدا ہو جائے گا اور جب یہ احساس اُن میں پیدا ہو جائے گا کہ وہ ساری قوموں سے انصاف کریں تو اُس وقت اللہ تعالیٰ ان کے لیے برکت کے سامان بھی پیدا کر دے گا اور وہ باتیں جو آج ناممکن نظر آتی ہیں وہ اُس وقت ممکن ہو جائیں گی۔تنگدلی کو دیکھ کر