خطبات محمود (جلد 38) — Page 239
خطبات محمود جلد نمبر 38 بھی نہیں کیا جاسکتا۔239 $1957 مجھے یاد ہے میں ابھی بچہ ہی تھا کہ کا ٹھگڑا ضلع ہوشیار پور کے ایک دوست عبد السلام صاحب میرے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔وہ کا ٹھگڑ ھ واپس گئے تو انہوں نے ایک پرائمری اسکول بنایا۔بعد میں وہ مڈل اسکول ہو گیا۔ان کے دو بیٹے اس وقت ربوہ میں ملازم ہیں۔عبدالسلام صاحب کے والد کی زمین تو بہت تھوڑی تھی لیکن ان کے تایا بڑے زمیندار تھے۔انہیں ایک تو ورثہ میں زمین ملی تھی اور پھر کچھ زمین انہوں نے خود بھی خریدی تھی۔ایک دفعہ میں کا ٹھگڑ ھ گیا۔میں جب وہاں سے چلنے لگا تو میرے اردگرد بہت سے لوگ جمع تھے۔وہ کہنے لگے حضور ! اس طرف سے نہ جائیں۔اس طرف فلاں آدمی رہتا ہے اور سخت دشمن ہے۔وہ گالیاں دیتا ہے اور مارنے کو آتا ہے۔اس لیے ڈر ہے کہ وہ کہیں حملہ نہ کر دے۔لیکن میں نے ان کی اس بات کی پروا نہ کی اور اُسی رستہ پر چل پڑا۔جب اُس شخص نے کی مجھے دیکھا تو وہ دوڑ کر میری طرف آیا۔میرے ساتھیوں نے خیال کیا کہ شاید وہ حملہ کرنے آ رہا ہے اس لیے وہ لاٹھیاں لے کر ا کٹھے ہو گئے۔لیکن وہ شخص انہیں دھگا دیتے ہوئے آگے بڑھا اور کہنے لگا۔یہ صرف تمہارے ہی پیر نہیں ہمارے بھی پیر ہیں۔کیا ہم نے ان کی زیارت نہیں کرنی ؟ پھر اُس نے ایک روپیہ نکال کر مجھے نذرانہ دیا اور کہا کہ یہ میری طرف سے نذر ہے اسے قبول فرما ئیں۔اب دیکھ لو خدا تعالیٰ نے اس کے دل پر کیسا تصرف کیا۔لوگ تو اس بات سے ڈر رہے تھے کہ وہ حملہ نہ کر دے اور وہ نذرانہ پیش کر رہا تھا۔پس اگر آپ لوگ کمر ہمت کس لیں اور اس کام میں لگ جائیں تو خدا تعالیٰ لوگوں کے دل کھول دے گا اور وہ تین چار لاکھ روپیہ بڑی آسانی سے دے دیں گے جس سے آپ لوگ مسجد بنالیں گے۔گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں۔صرف ہمت کی ضرورت ہے۔اگر آپ لوگ ہمت اور ارادہ کر لیں گے تو خدا تعالیٰ خود آپ لوگوں کا حافظ و ناصر ہو گا۔لیکن یہ اُسی وقت ہوسکتا ہے جب آپ سب اس کام کی طرف متوجہ ہو جائیں۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا - 5 وہ یقیناً تو اب ہے۔لیکن جب تک لوگ اُس کی طرف رجوع نہیں کرتے وہ بھی اُن کی طرف رجوع نہیں کرتا۔اور جب لوگ اُس کی طرف رجوع کر لیتے ہیں تو وہ بھی اُن کی طرف رحمت کے ساتھ رجوع کرتا ہے۔احادیث میں آتا ہے کہ جب دوزخ میں سے آخری آدمی نکالا جائے گا تو وہ خدا تعالیٰ۔ނ