خطبات محمود (جلد 38) — Page 240
$1957 240 خطبات محمود جلد نمبر 38 کہے گا کہ اے خدا ! تو نے مجھے دوزخ سے تو نکال دیا ہے۔اب تو مجھے پر مزید مہر بانی فرما اور مجھے اپنے فضل سے جنت کے دروازہ پر کھڑا کر دے۔خدا تعالیٰ اُس کی دعا کو سنے گا اور اُسے جنت کے دروازہ پر لا کر کھڑا کر دے گا۔جب وہ اُس کے دروازہ پر کھڑا ہوگا تو وہ کہے گا خدایا! جب میں دُور تھا تو جنت کی مجھے صرف رغبت محسوس ہوتی تھی لیکن اب تو میں دروازہ میں کھڑا ہوں اور جنت کی نعماء بھی دیکھ رہا ہوں۔اب تو جنت کی نعماء دیکھ کر مجھ میں برداشت کی طاقت بالکل نہیں رہی۔تو مجھے جنت کے دروازہ سے کچھ تھوڑی دور آگے کر دے تا کہ میں ان نعمتوں سے حظ اُٹھا سکوں۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا دیکھو ! میرا یہ بندہ کتنا حریص ہے۔اور اس کے بعد کہے گا جنت کے سات دروازوں میں سے تو جس دروازہ میں سے چاہے جنت میں داخل ہو جا۔تو دیکھو! جس شخص کو خدا تعالیٰ نے سینکڑوں سال تک دوزخ میں رکھا اس کو بھی وہ کہتا ہے کہ تو جس دروازہ سے چاہے جنت میں داخل ہو جا۔6 پس تم خدا تعالیٰ سے اپنا تعلق بڑھاؤ اور اس کی طرف توجہ کرو۔وہ تم کو بڑی عزت بخشے گا۔ایک دفعہ تم مسجد بنانے کا عزم کر لو تو مسجد یقیناً بن جائے گی۔اگر تم مسجد بنانے سے پہلے مر گئے تو بنی ہوئی مسجد دیکھنے کا مزا تمہیں حاصل نہیں ہوگا۔لیکن اگر تم اپنی زندگی میں مسجد بنا گئے تو یہ مزا بھی پالو گے اور تمہاری مثال ایسی ہی ہوگی جیسے لطیفہ مشہور ہے کہ کسی دفتر میں کوئی کلرک تھا جسے سل ہو گئی۔محکمہ کی طرف سے اُسے ہسپتال میں داخل کر دیا گیا۔جب وہ ڈسچارج ہوا تو ہسپتال والوں نے کہا کہ اسے وزیر آباد اور سیالکوٹ کی سڑک پر چھوڑ آؤ وہاں سے یہ سواری لے کر اپنے گاؤں میں چلا جائے گا۔چنانچہ اُسے سڑک پر لا کر چھوڑ دیا گیا۔وہ سڑک پر چلا جا رہا تھا کہ اُسے ایک پہلوان نظر آیا جس کا سر منڈا ہوا تھا اور اُس نے اپنے سارے جسم پر تیل ملا ہوا تھا اور اکٹڑ اکٹر کر چل رہا تھا۔اس مسلول کلرک کو شرارت سوجھی اور اُس نے پیچھے سے آ کر اُس کے سر پر ٹھینگا مارا۔پہلوان پیچھے مڑا تو اُس نے اس مسلول شخص کو دیکھا۔اُسے بڑا غصہ آیا اور اُس نے اُسے نیچے گرا کر خوب مارا۔جب وہ مار مار کر تھک گیا تو وہ مسلول شخص کہنے لگا پہلوان صاحب ! آپ نے مجھے خوب مارا ہے اور اگر اور بھی مارنا چاہو تو بے شک مارلو لیکن جو مزا مجھے ٹھینگا مارنے میں آیا ہے وہ آپ کو مار میں نہیں آسکتا۔اسی طرح اگر تم میں کوئی فوت ہو گیا اور مسجد اس کی زندگی میں نہ بنی تو جنت میں تو اُسے مکان مل جائے گا لیکن اُسے وہ مزا نہیں آئے گا جو اس دوسرے شخص کو آئے گا جس نے اپنی زندگی میں بنی ہوئی مسجد بھی دیکھ لی ہوگی۔