خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 162

162 $1957 خطبات محمود جلد نمبر 38 جیل خانہ کے افسروں کو کہلا بھیجا کہ میں فلاں قیدی کو دیکھنا چاہتا ہوں تم جیل کے دروازے کھلے رکھو۔جب بادشاہ وہاں پہنچا تو اس نے دیکھا کہ وہ قید خانہ میں رسیوں سے جکڑے پڑے ہیں۔وہ بڑی احتیاط سے ان رسیوں کو کھولتا جاتا اور ساتھ ساتھ روتا جاتا تھا۔پھر ان کے جسم پر ان رسیوں کے جو نشانات پڑ گئے تھے ان کو اپنے ہاتھ سے ملتا جاتا تھا۔انہوں نے کہا ہارون ! یہ کیا بات ہے؟ کل تک تو تمہارے جیلر مجھ پر بڑی بڑی سختیاں کرتے تھے مگر آج تم خود رسیوں کے بند کھول رہے اور رور ہے ہو۔ہارون الرشید نے کہا میں بھی اس سال حج کو آیا تھا۔آج رات جب میں محل میں سورہا تھا تو میں نے رویا میں دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں۔آپ میرے کمرہ میں آئے اور آپ نے زور سے مجھے ٹھوکر ماری اور فرمایا او بد بخت ! تجھے شرم نہیں آتی کہ میرا بیٹا جیل خانہ میں پڑا ہوا ہے، اس کے ہاتھوں میں رسیاں بندھی ہیں اور اس کے جسم کو جکڑا گیا ہے اور تو اپنے محل میں آرام سے ہے سورہا ہے؟ اس پر میں نے اُسی وقت اٹھ کر جیل والوں کو اطلاع بھجوائی کہ میں آ رہا ہوں دروازے کھلے رکھے جائیں۔یہ ایک واقعہ نہیں ایسے ہزاروں واقعات ہیں جن سے پتا لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب مدد دینے پر آتا ہے تو وہ ایسے ذرائع سے مدد دیتا ہے جو انسان کے وہم اور گمان میں بھی نہیں ہوتے۔ہماری جماعت کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے وعدے فرمائے ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود لیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے ایک دفعہ الہاما فرمایا کہ ” خدا تیرے نام کو اُس روز تک جو دنیا منقطع ہو جائے عزت کے ساتھ قائم رکھے گا اور تیری دعوت کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دے گا۔اور ایسا ہوگا کہ سب وہ لوگ جو تیری ذلت کی فکر میں لگے ہوئے ہیں اور تیرے نا کام رہنے کے درپے اور تیرے نابود کرنے کے خیال میں ہیں وہ خود ناکام رہیں گے اور نا کامی اور نامرادی میں مریں گے۔لیکن خدا تجھے بکی کامیاب کرے گا اور تیری ساری مراد یں تجھے دے گا۔میں تیرے خالص اور دلی محبوں کا گروہ بھی بڑھاؤں گا اور اُن کے نفوس و اموال میں برکت دوں گا اور ان میں کثرت بخشوں گا۔اور وہ مسلمانوں کے اس دوسرے گروہ پر تا بروز قیامت غالب رہیں گے جو حاسدوں اور