خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 161

$1957 161 خطبات محمود جلد نمبر 38 آخر ایک دن پتالگا کہ بادشاہ کی فوجیں فصیلوں کے باہر ٹھہر گئی ہیں۔اُن کے مُرید یہ خبر سن کر پھر آپ کے پاس آئے اور کہا کہ حضور! اب تو وہ دتی کی فصیلوں تک آپہنچا ہے۔آپ نے فرمایا ” ہنوز دلی دور است۔ابھی تو وہ فصیل کے باہر ہے اندر تو داخل نہیں ہوا کہ ہمیں گھبراہٹ ہو۔اسی رات ولیعہد نے فتح کی خوشی میں ایک بہت بڑی دعوت کی اور شاہانہ جشن منایا۔ہزاروں لوگ اس دعوت اور رقص و سرود کی محفل میں شریک ہوئے۔ولیعہد نے اس دعوت کا انتظام ایک بہت بڑے محل کی چھت پر کیا تھا۔چونکہ چھت پر بہت زیادہ لوگ اکٹھے ہو گئے تھے اس لیے اچانک چھت نیچے آ گرا اور بادشاہ اور اس کا ولیعہد دونوں دب کر ہلاک ہو گئے۔صبح جب بادشاہ کی موت کی خبر آئی تو انہوں نے کہا کیا میں تمہیں نہیں کہتا تھا کہ ہنوز دلی دور است؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بھی ہم نے ایسے کئی واقعات دیکھے ہیں۔ایک دفعہ خواجہ کمال الدین صاحب بڑے گھبرائے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ حضور ! فلاں ہندو مجسٹریٹ جس کے سامنے آپ کا مقدمہ ہے اُس پر آریوں نے بڑا زور ڈالا ہے کہ یہ قوم کی خدمت کا موقع ہے تم جس طرح بھی ہو سکے مرزا صاحب کو قید کر دو اور سنا ہے کہ مجسٹریٹ نے بھی ان سے وعدہ کر لیا ہے۔اس لیے بہتر ہے کہ کوئی انگریز وکیل مقرر کر لیا جائے۔اس طرح کچھ مدت کے لیے حضور کسی دوسرے ضلع میں چلے جائیں اور ڈاکٹری سرٹیفکیٹ عدالت میں بھجوا دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ سنا تو آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور بڑے جوش سے فرمایا کہ خواجہ صاحب! آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں؟ کس کی طاقت ہے کہ وہ خدا کے شیر پر ہاتھ ڈال سکے۔چنانچہ خدا کی شان ہے کہ ابھی وہ فیصلہ سنانے نہیں پایا تھا کہ تبدیل ہو گیا۔غرض خدا تعالیٰ کی نصرت اور اُس کی تائیدات کے کرشمے ہمیشہ ہماری نظروں کے سامنے رہتے ہیں۔کچھ کہانیوں اور قصوں کے ذریعہ اور کچھ اپنے مشاہدات اور تجربات کے ذریعہ۔ہارون الرشید کے زمانہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک نواسے کو جو حضرت فاطمہ کی اولاد میں سے تھے اور جن کا نام غالباً موسی رضا تھا بادشاہ نے لوگوں کی شکایتوں پر قید کر دیا اور آخر مختلف مقامات سے بدلتے ہوئے انہیں مکہ بھجوا دیا۔اُس نے سمجھا کہ چونکہ وہاں کے لوگوں پر شیعیت کا اثر نہیں اس لیے انہیں مکہ میں بھجوانا زیادہ مناسب ہوگا۔ایک دن بادشاہ نے رات کے وقت