خطبات محمود (جلد 38) — Page 98
$1957 98 خطبات محمود جلد نمبر 38 فرمایا پھر جاؤ اور تلاش کرو۔چنانچہ وہ پھر گئے اور انس کو تمام میدانِ جنگ میں تلاش کیا۔مگر پھر بھی وہ نہ ملے۔وہ واپس آگئے اور انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ يَارَسُولَ اللہ ! انس کا کوئی پتا نہیں لگا۔آپ نے فرمایا: پھر جاؤ اور تلاش کرو۔انس کے جسم کے اُس وقت ستر ٹکڑے ہو چکے تھے جو پہچانے نہیں جاتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اُن کے کسی قریبی رشتہ درا کو ساتھ لے جاؤ جو اُن کی لاش کو پہچان سکے۔اس ارشاد کی تعمیل میں صحابہ انس کی بہن کو ساتھ لے گئے۔ایک جگہ ایک انگلی کٹی پڑی تھی۔اُن کی بہن نے اُسے پہچان لیا اور کہا یہ میرے بھائی کی انگلی ہے۔آپ کی کٹی ہوئی انگلیاں بکھری پڑی تھیں، ٹانگیں الگ پڑی تھیں، ہا تھا الگ پڑے تھے اور دھڑا الگ کٹا پڑا تھا۔آپ کی انگلی پر کوئی پر ان زخم تھا جس کی وجہ سے آپ کی بہن نے پہچان لیا کہ یہ میرے بھائی کی انگلی ہے۔غرض لاش کے ٹکڑوں کو جمع کر لیا گیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر دی گئی کہ انس کی لاش مل گئی ہے۔4 تو مومن کو اول تو ایسے واقعات پیش نہیں آتے۔لیکن اگر پیش آجائیں تو وہ خوش ہوتا ہے۔گھبرا کر ادھر اُدھر بھاگا نہیں پھرتا۔بلکہ مومن تو ایسے واقعات کو اللہ تعالیٰ کی نعمت سمجھتا ہے اور اس انتظار میں رہتا ہے کہ یہ نعمت آتی کب ہے۔جنگِ اُحد میں دیکھ لو دشمن نے اپنی طرف سے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مار دیا تھا مگر خدا تعالیٰ نے آپ کو بچالیا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر دشمنوں نے کئی حملے کیے۔آپ کے خلاف عدالت میں نالشیں کیں اور آپ کو قتل کروانے کے منصوبے کئے اور کئی آدمی قتل کرنے کے لیے بھیجے مگر آپ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہر دفعہ محفوظ رہے۔میرے ساتھ بھی ایسے دس بارہ واقعات ہوئے ہیں۔ایک دفعہ ایک عیسائی مجھے قتل کرنے کے لیے آیا۔بعد میں اُس نے عدالت میں اقرار کیا کہ میں مرزا صاحب کو قتل کرنے کے لیے گیا تھا مگر آپ پھیرو پیچی گئے ہوتے تھے قادیان میں نہیں تھے۔میں پھیرو پیچی گیا تا وہیں آپ کو قتل کر دوں۔مگر وہاں جا کے میں نے دیکھا کہ ان کے پاس کوئی مہمان آیا ہوا ہے اور وہ ایک جگہ بیٹھا بندوق صاف کر رہا ہے (وہ مہمان نہیں تھا بلکہ میرے ایک کلرک بیٹی خاں صاحب مرحوم تھے۔اس وقت میرے دفتر میں جو عبد اللطیف خاں کلرک ہے اور نھا کہلاتا ہے اس کے والد تھے )۔میں اس نظارہ کو دیکھ کر حملہ کرنے کی جرات نہ کر سکا اور واپس آ گیا اور خیال کیا کہ پھر کوئی کی