خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 94

$1957 94 خطبات محمود جلد نمبر 38 کر اپنے لشکر سمیت مکہ کی طرف جو تین سو میل کے فاصلہ پر تھا بھاگ گیا لیکن مسلمان عورتیں اور بچے میدانِ جنگ کی طرف دوڑ پڑے۔یہ پتا لینے کے لیے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ تو دیکھو! کتنا بڑا فرق ہے۔چاہیے تو یہ تھا کہ مسلمانوں کی شکست کی خبر سن کر مدینہ کا شہر خالی ہو جاتا اور لوگ وہاں سے بھاگ جاتے لیکن بھاگا ابوسفیان۔وہ اپنے لشکر کو لے کر مکہ جا پہنچا۔اور بھا گا بھی اس ڈر کے مارے کہ کہیں مسلمان اسے مارنہ دیں اور اس کے مقابلہ پر مسلمان عورتیں دلیری سے اپنے بچوں کو لے کر میدانِ جنگ میں جا پہنچیں۔غرض مسلمانوں کے حوصلے دیکھو اور کفار کی بزدلی دیکھو۔اس کی وجہ یہی تھی کہ جو مسلمان نہیں تھے وہ تو یہ سمجھتے تھے کہ اس کا بُرا نتیجہ ہمارے لیے ہی نکلنا ہے لیکن مسلمان یہ سمجھتے تھے کہ یہ جو بظاہر شکست ہوئی ہے اس کا نتیجہ ہمارے لیے اچھا ہی نکلے گا۔چنانچہ ان کی عورتیں اپنے بچوں کو ساتھ لے کر میدانِ جنگ میں پہنچ گئیں۔تاریخ میں آتا ہے کہ ایک عورت جب دوڑتی ہوئی میدانِ جنگ کی طرف آ رہی تھی تو رستہ میں اسے ایک آدمی ملا جو اس کا واقف تھا۔اُس عورت نے اس سے دریافت کیا کہ بتاؤ! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کیا حال ہے؟ اس عورت کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زندہ ہونے کی خبر نہیں پہنچی تھی۔لیکن وہ صحابی میدانِ جنگ سے آ رہے تھے اور انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زندہ ہونے کا یقین تھا اُس لیے انہوں نے بجائے رسول کریمی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کوئی بات کہنے کے اس عورت سے کہا کہ بی بی ! مجھے بہت افسوس ہے کہ تیرا باپ اور تیرا خاوند اور تیرا بھائی تینوں اس جنگ میں شہید ہو گئے ہیں۔اس پر وہ کہنے لگی میں نے کب تجھ سے اپنے باپ کے متعلق پوچھا تھایا میں نے کب تجھ سے اپنے بھائی کے متعلق سوال کیا تھایا میں نے کب تجھ سے اپنے خاوند کے متعلق دریافت کیا تھا۔میں نے تو تجھ سے یہ دریافت کیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ مگر اس صحابی نے پھر وہی جواب دیا۔آخر اس عورت نے تجھے خدا تعالیٰ کی قسم! تو کوئی اور بات نہ کر تو میری اس بات کا جواب دے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ اُس نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو خدا تعالیٰ کے فضل سے خیریت سے ہیں۔یہ جواب سن کر اُس عورت نے کہا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیریت سے ہیں تو باقی سب مصیبتیں اس خوشی کے مقابلہ میں بالکل بیچ ہیں۔3 پھر وہ کہنے لگی بھائی ! مجھے یہ