خطبات محمود (جلد 38) — Page 93
خطبات محمود جلد نمبر 38 93 $1957 صحابہ کوشش کر کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی سے خود کا کیل نکال چکے تھے اور آپ کو ہوش آ چکی تھی اور انہیں یقین ہو چکا تھا کہ آپ زندہ ہیں اور وہ ابوسفیان کی بات کا جواب دے سکتے تھے۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چپ رہو۔آپ نے خیال فرمایا کہ ایسا نہ ہو کہ دشمن پھر حملہ کر۔جب اسے کوئی جواب نہ ملا تو کہنے لگا کہاں ہے ابوبکر ؟ حضرت ابو بکر کو بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ سے فرمایا کہ خاموش رہو۔چنانچہ آپ بھی خاموش رہے۔پھر ابوسفیان اپنے اس جوش میں کہنے لگا کہاں ہے عمر؟ حضرت عمر بڑے جو شیلے تھے۔وہ جھٹ کہنے لگے کہ میں تمہارا سر توڑنے کے لیے یہاں موجود ہوں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر ا خاموش رہو۔چنانچہ حضرت عمرؓ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی تعمیل میں خاموش رہے۔اس پر ابوسفیان نے بلند آواز سے کہالَنَا عُزّى وَلَا عُزّى لَكُمُ اے مسلمانو! دیکھو مری بت ہمارے پاس ہے اور تمہارے پاس کوئی غربڑی نہیں۔اب تمہیں کون بچا سکتا ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ بات سنی تو آپ نے فرمایا اب کیوں نہیں بولتے ؟ چونکہ آپ صحابہ کو بار بار حکم دے چکے تھے کہ اس وقت ہم کمزور اور زخمی ہیں اس لیے خاموش رہو تا ایسا نہ ہو کہ کفار مسلمانوں پر دوبارہ حملہ کر دیں اس لیے وہ اس بات پر بھی خاموش رہے۔لیکن جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب بولتے کیوں نہیں؟ تو صحابہ نے عرض کیا یا رَسُولَ اللہ ! ہم کیا جواب دیں؟ آپ نے فرمایا تم کہولَنَا مَوْلى وَلَا مَوْلَى لَكُمْ ابوسفیان نے کہا ہمارے پاس عربی بہت ہے مگر تمہارے پاس کوئی محب ہی نہیں۔تم کہو ہمارے ساتھ ہمارا خدا ہے مگر تمہارے ساتھ کوئی خدا نہیں۔2 غرض مومن کسی حالت میں بھی نہیں گھبراتا اور وہ ہر حالت میں اپنے خدا پر بھروسہ رکھتا ہے۔چنانچہ دیکھ لو جنگِ اُحد میں بظاہر مسلمانوں کو شکست ہوئی تھی اور کفار کو فتح ہوئی تھی۔لیکن نتیجہ کیا نکل آیا؟ مسلمان گھبرائے یا کفار گھبرائے؟ تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ مکہ والے ایسے گھبرائے کہ ابوسفیان اپنا سارالشکر لے کر مکہ جا پہنچا۔ادھر مسلمان جو زخمی ہوئے تھے اور ایک موقع پر انہیں یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں اُن کی یہ حالت ہوئی کہ چونکہ اُحد مدینہ کے قریب تھا ( اُحد اور مدینہ کے درمیان قریباً آٹھ میل کا فاصلہ تھا ) اس لیے جب یہ خبر مدینہ والوں کو پہنچی تو مدینہ کی عورتیں اور بچے میدانِ جنگ کی طرف بھاگے۔گویا کفار کا جرنیل ابوسفیان جومردتھاوہ تو ڈر