خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 70

$1957 70 خطبات محمود جلد نمبر 38 میرے گناہ بخش دے۔آپ خدا تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ میں نے جو آپ کی دشمنیاں کی ہیں وہ مجھے معاف کر دے۔اس پر آپ نے اس کے لیے دعا فرمائی 5۔اب دیکھو! عکرمہ اتنا سخت بغیض دشمن اسلام تھا لیکن اس کے باوجود وہ اسلام لایا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کے لیے نہیں، حضرت ابوبکر کے لیے نہیں، حضرت عمرؓ کے لیے نہیں بلکہ معمولی مسلمانوں کے لیے جنہوں نے عیسائیوں کے مقابلہ میں شہادت حاصل کی تھی۔اُس نے اتنی بڑی قربانی کی کہ وہ پیاس کی وجہ سے تڑپتے ہوئے مر گیا لیکن اُس نے یہ برداشت نہ کیا کہ اس کے منہ میں پانی کا قطرہ پڑ جائے اور اُس کے مسلمان بھائی پیاس کی وجہ سے تڑپتے رہیں۔اب یہ کتنا بڑا نشان تھا اُن لوگوں کے لیے جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ کا رویا سنا تھا کہ ابو جہل کے لیے جنت سے انگوروں کا ایک خوشہ آیا ہے۔آپ نے فرمایا میں اُس وقت تو سخت گھبرا گیا کہ خدا تعالیٰ کا رسول اور اُس کا دشمن دونوں برابر کیسے ہو سکتے ہیں۔لیکن جب عکرمہ مسلمان ہوا تو اس رویا کی تعبیر سمجھ میں آگئی اور معلوم ہوا کہ اس سے مُراد عکرمہ تھا۔در حقیقت عکرمہ اُس زمانہ میں اپنے دلی بغض کے لحاظ سے ابو جہل کا مثیل تھا۔اس لیے آپ نے جو یہ دیکھا کہ ابو جہل کے لیے جنت کے انگوروں کا خوشہ آیا ہے تو یہ ٹھیک تھا۔عکرمہ ابو جہل کا مثیل تھا اس لیے رویا میں اسے ابو جہل ہی کہا گیا۔پھر وہ اسلام لایا اور اسلام کے لیے اس قدر قربانیاں کیں کہ انسان انہیں دیکھ کر حیرت میں پڑ جاتا ہے۔اب جس شخص نے یہ نشان دیکھا اُس کے دل میں کتنی خوشی ہوئی ہو گی۔انہی نشانات کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے لَقَدْ أَنْزَلْنَا أَیتِ مُبَيِّنَتٍ۔ہم نے قرآن کریم کے ذریعہ ایسے نشانات نازل کر دیئے ہیں جو خدا تعالیٰ کو ننگا کر کے انسان کے سامنے کھڑا کر دیتے ہیں۔غیروں کے لیے تو خدا تعالیٰ ایک پوشیدہ چیز ہے مگر مسلمانوں کے لیے وہ پوشیدہ چیز نہیں۔کیونکہ وہ نشانات کے ذریعہ سے ان کے سامنے کھل کر آ جاتا ہے۔دوسری مثال رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں حضرت عمرو بن عاص کی ہے۔حضرت عبداللہ بن عمرو ابتدائی صحابہ میں سے تھے اور اپنے باپ سے بہت پہلے مسلمان ہو گئے تھے۔آپ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت کی۔آپ مسجد میں بیٹھے رہتے تھے تا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر سے باہر نکلیں اور کوئی بات کریں تو اُسے لکھ لیں