خطبات محمود (جلد 38) — Page 50
$1957 50 خطبات محمود جلد نمبر 38 صرف نسلی طور پر ہی نہیں بڑھتیں بلکہ تبلیغ سے بھی بڑھتی ہیں۔چونکہ اس وقت ہمارے یہاں دس ہزار آدمی ہیں اس لیے اگر دس ہزار آدمی ایک ایک آدمی کو بھی سلسلہ میں داخل کرے تو اگلے سال ان کی تعداد میں ہزار ہو جائے گی۔اُس سے اگلے سال چالیس ہزار ہو جائے گی۔اُس سے اگلے سال آتی ہزار ہو جائے گی اور اس طرح دس سال میں پینتیس لاکھ میں ہزار تک ان کی تعداد پہنچ جائے گی جو سندھ کی آدھی آبادی ہے اور یہ ترقی صرف تبلیغ کے ذریعہ ہوگی۔نسل کے ذریعہ ان کی جو ترقی ہوگی وہ اس سے علیحدہ ہوگی۔اور اگر ہر احمدی ایک ایک نہیں بلکہ دو دو آدمیوں کو سلسلہ میں داخل کرے تو ان کی تعداد دس ہزار سے تہیں ہزار ہو جائے گی، دوسرے سال نوے ہزار ہو جائے گی، تیسرے سال دولاکھ ستر ہزار ہو جائے گی، چوتھے سال آٹھ لاکھ دس ہزار ہو جائے گی ، پانچویں سال چوبیس لاکھ میں ہزار ہو جائے گی، چھٹے سال بہتر لاکھ نوے ہزار ہو جائے گی اور ساتویں سال دو کروڑ اٹھارہ لاکھ ستر ہزار ہو جائے گی جو سندھ کی آبادی سے تین گنا سے بھی زیادہ ہے۔اگر گزشتہ سالوں میں بھی جماعت کے تمام دوست اس رنگ میں اپنی کوشش جاری رکھتے اور ہر سال دو دو افراد کو اپنے اندر شامل کرنے کی کوشش کرتے تو سارے سندھ میں اس وقت احمدی ہی احمدی ہوتے۔بلکہ اگر وہ ہر سال صرف ایک ایک احمدی کرتے تب بھی ان کی تعداد گزشتہ سالوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اتنی بڑھ جاتی کہ صرف سندھ ہی نہیں بلکہ مغربی پاکستان کی آبادی کے برابر ان کی تعداد پہنچ جاتی۔در حقیقت اپنے آپ کو ڈ گنا کرتے چلے جانا ایسا ہی ہوتا ہے جیسے مشہور ہے کہ جس شخص نے شطرنج کی کھیل ایجاد کی تھی اُس نے یہ کھیل بادشاہ کو بھی دکھائی۔بادشاہ کو یہ کھیل بڑی پسند آئی اور اس نے کہا کہ تم نسخہ بیچ ڈالو اور دس ہزار روپیہ انعام کے طور پر لے لو۔وہ اچھا حساب دان آدمی تھا کہنے لگا حضور! میں دس ہزار روپیہ لینے کے لیے تیار نہیں۔میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ اس کے ایک خانہ میں ایک کوڑی رکھوائیں، دوسرے خانہ میں دو کوڑیاں رکھوائیں، تیسرے خانہ میں چار کوڑیاں رکھوائیں، چوتھے خانہ میں آٹھ کوڑیاں رکھوائیں، پانچویں خانہ میں سولہ کوڑیاں رکھوائیں اور اس طرح آخر تک دُگنا کرتے چلے جائیں اور پھر جو کچھ بنے مجھے انعام کے طور پر دے دیں۔شطر نج کے کل چونسٹھ خا۔ہوتے ہیں۔بادشاہ نے کہا میں نے تو سمجھا تھا کہ تم بڑے عقل مند ہومگر معلوم ہوتا ہے کہ تم جاہل آدمی ہو کہ دس ہزار روپیہ لینے کی بجائے مجھ سے کوڑیاں مانگتے ہو۔وہ کہنے لگا حضور! مجھے تو یہی چاہیے۔