خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 29

$1957 29 خطبات محمود جلد نمبر 38 بھی بہت ہے۔حالانکہ اگر ہم خدا تعالیٰ سے تعلق رکھیں تو آبادی بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔دیکھو! خدا تعالیٰ کے دینے کے طریق یہی ہوتے ہیں کہ کبھی بچے زیادہ دے دیتا ہے اور کبھی دوسروں کے بچے مارڈالتا ہے۔حضرت موسی علیہ السلام کے متعلق یہی آتا ہے کہ اُن کے زمانہ میں فرعونیوں کے پلو ٹھے مارے گئے۔4 تو خدا تعالیٰ میں یہ بھی طاقت ہے کہ ایک ایک پاکستانی کے ہاں اتنے بچے پیدا ہو جائیں کہ وہ گھبرایا پھرے کہ ان کو کھلاؤں کہاں سے۔اور خدا تعالیٰ میں یہ بھی طاقت ہے کہ وہ ہندوستان کی آبادی کو کم کر دے۔پس اللہ تعالیٰ کو یہ دونوں طاقتیں حاصل ہیں۔وہ اگر چاہے تو کسی کو زیادہ بچے دے دے اور اگر چاہے تو کسی کے بچے مار دے۔اس لیے ہماری آٹھ کروڑ کی آبادی آستی کروڑ بھی بن سکتی ہے اور ہندوستان کی پینتالیس کروڑ کی آبادی پانچ کروڑ یا اڑھائی کروڑ بلکہ پانچ لاکھ بھی بن سکتی ہے۔پس خدا تعالیٰ کے اختیار میں سب کچھ ہے۔جو خدا تعالیٰ کو اپنا بنالے گا خدا تعالیٰ اُس کی مدد کرنی شروع کر دے گا۔اگر ہندوستانی خدا تعالیٰ کو اپنا بنا لیں گے تو اُن کی چیزوں میں برکت پیدا ہو جائے گی۔اور اگر پاکستانی خدا تعالیٰ کو اپنا بنالیں گے تو پاکستان کی ہر چیز میں برکت پیدا ہونی شروع ہو جائے گی اور یہ چھوٹا سا ملک اتنی بڑی طاقت پکڑلے گا کہ دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں اس سے لرزیں گی۔نہرو جی تو اس بات پر خوش ہیں کہ روس کا وزیر اعظم اور سیکرٹری ہمارے پاس آئے ہیں لیکن تمہارے لیے اس سے بڑی گنجائش باقی ہے۔تمہارے لیے یہ گنجائش باقی ہے کہ خدا تعالیٰ اور اُس کا جبریل تمہارے پاس آجائیں۔اب تم بتاؤ کہ روس کے کمانڈر انچیف اور اس کے سیکرٹری کی خدا تعالیٰ اور اُس کے جبریل کے سامنے حیثیت ہی کیا ہے۔اگر ایسا ہو جائے تو نہرو جی کی خوشی کتنی حقیر ہو جاتی ہے۔وہ اس بات پر خوش ہیں کہ روس کے کمانڈر انچیف اور کمیونسٹ پارٹی کے چیف سیکرٹری اُن کے ہاں آئے لیکن ہر پاکستانی اس امید سے پُر ہے کہ کسی دن خدا تعالیٰ چاہے گا تو خدا اور جبریل اُس کے گھر آ جائیں گے۔اور جس دن خدا اور اس کا جبریل اس کے گھر آئے اُس دن روس کے کمانڈر انچیف اور کمیونسٹ پارٹی کے چیف سیکرٹری کو بھاگتے ہوئے رستہ بھی نہیں ملے گا بلکہ وہ اپنی جو تیاں چھوڑ کر بھاگ جائیں گے کیونکہ خدا تعالیٰ اور جبریل کے مقابلہ میں کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی۔غرض اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے ترقیات کا ایک بہت بڑا رستہ کھلا رکھا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دنیا میں پیدا ہونے کے بعد خدا تعالیٰ کے ساتھ وہ وفاداری کی