خطبات محمود (جلد 38) — Page 250
$1957 250 خطبات محمود جلد نمبر 38 گزر گیا ہے اب ہم دنیا میں نہیں رہے جہاں کام کی طاقت ہم میں پائی جاتی تھی بلکہ ہم مر گئے ہیں اور تیرے سامنے حاضر ہیں۔اس لیے ہم تجھ سے ہی مدد طلب کرتے ہیں اور درخواست کرتے ہیں کہ تو ہم پر رحم فرما۔قرآن کریم میں لکھا ہے کہ جب کا فرجہنم کی تکلیف کو برداشت نہیں کر سکیں گے تو وہ خدا تعالیٰ سے کہیں گے کہ اے خدا! تو ہمیں اس آگ سے نکال لے۔ہم اقرار کرتے ہیں کہ آئندہ ہم ہمیشہ نیک اعمال بجالائیں گے اور کبھی تیری نافرمانی نہیں کریں گے۔اللہ تعالیٰ انہیں یہی جواب دے گا کہ کیا ہم نے اس سے پہلے تمہیں دنیا میں ایک لمبی عمر عطا نہیں کی تھی ؟ پھر تم نے اُس وقت کیوں کوئی نیک کام نہ کیا؟ اب یہ عمل کی جگہ نہیں۔عمل کی جگہ دنیا تھی۔اب تم اپنے بد اعمال کا نتیجہ بھکت۔5 غرض رَبِّ الْعَلَمِيْنَ اور الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ کا تعلق چونکہ دنیوی زندگی سے تھا اس لیے انسان کہتا ہے کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ اے ہمارے رب! ابھی ہم دنیا میں زندہ موجود ہیں، ہم میں عمل کی طاقت ہے اور ہم اعمال کے ذریعہ تیری مددکو کھینچ سکتے ہیں۔اس لیے ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔مگر جب وہ وقت گزر گیا اور یومِ الدِّینِ کا زمانہ آ گیا تو وہ کہتا ہے اے خدا! دنیا سے ہم گئے جو عمل کی جگہ تھی۔اور ہم واپس بھی نہیں جا سکتے کیونکہ تیرا قانون ہے کہ مُردے واپس دنیا میں دوبارہ زندہ نہیں ہو سکتے۔اب ایک ہی صورت ہے کہ تو ہی مددفرما تا کہ ہم عذاب سے بچ جائیں۔غرض یہ مضمون ہے جو اس سورۃ میں بیان کیا گیا ہے۔یہ سورۃ نہایت مختصر یعنی صرف سات آیات کی سورۃ ہے لیکن اس میں بڑے بڑے لطائف اور غرائب بیان کیے گئے ہیں۔ہمارا جلسہ سالانہ اب خدا تعالیٰ کے فضل سے بالکل قریب ہے۔میں نے پچھلے جمعہ میں تحریک کی تھی کہ ربوہ والے جلسہ سالانہ کے مہمانوں کے لیے اپنے مکانات دیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ جہاں اہلِ ربوہ کا یہ فرض ہے کہ وہ مہمانوں کی خدمت کریں اور اُن کی رہائش کے لیے مکانات دیں وہاں باہر سے آنے والوں کا بھی فرض ہے کہ وہ اہلِ ربوہ کی اس قربانی کی قدر کریں جو وہ یہاں رہ کر کر رہے ہیں۔یہ جلسہ سالانہ بڑی خصوصیتوں والا ہے۔کیونکہ اس جلسہ پر خدا تعالیٰ کے فضل سے سارے قرآن کی ایک مکمل لیکن مختصر تفسیر شائع ہو جائے گی۔حدیث کے متعلق بھی ایک کتاب شائع ہو جائے گی۔اسی طرح اور بھی بعض کتابیں شائع ہوں گی۔اس کے علاوہ اس موقع پر جیسا کہ میں