خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 217

$1957 217 خطبات محمود جلد نمبر 38 کو گندی گالیاں دینی شروع کر دیں۔اور پھر اُس نے یہیں تک بس نہ کی بلکہ اس بد بخت نے اپنے پاؤں سے آپ کے کندھے پر ٹھوکر ماری اور اس طرح آپ کو جسمانی رنگ میں بھی سخت اذیت پہنچائی مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے کوئی جواب نہ دیا اور خاموشی سے اٹھ کر اپنے گھر چلے گئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کی ایک پرانی بڑھیا لونڈی تھی جس نے گھر کے کئی بچوں کو پالا تھا جو اب بڑی عمر کے ہو چکے تھے۔وہ لونڈی دروازہ میں کھڑی یہ سب نظارہ دیکھ رہی تھی۔حضرت حمزہ اُس وقت شکار کو گئے ہوئے تھے۔جب وہ واپس آئے تو وہ لونڈی بڑے غصہ سے کہنے لگی کہ تم بڑے بہادر بنے پھرتے ہو اور ہر وقت اسلحہ سے مسلح رہتے ہو تمہیں شرم نہیں آتی کہ ابھی میں نے دیکھا کہ تیرا بھتیجا حمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) سامنے پتھر پر بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں ابو جہل آیا اور اُس نے اُسے گندی گالیاں دینی شروع کر دیں اور اپنے پاؤں سے اُسے ٹھو کر ماری اور خدا کی قسم ! جب اُس نے اُسے گالیاں دیں اور ٹھوکر ماری اُس وقت میں سامنے کھڑی تھی۔اُس نے ایک لفظ بھی منہ سے نہیں نکالا اور خاموشی سے اُس کی گالیاں سنتا رہا اور تکلیف برداشت کرتا رہا۔حضرت حمزہ کو یہ سن کر غیرت آئی۔وہ وہیں سے اُلٹے پاؤں لوٹے اور خانہ کعبہ میں گئے۔وہاں اتفا قار و سائے مکہ کے سامنے بیٹھا ابو جہل بڑا فخر کر رہا تھا کہ میں نے آج محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو گالیاں دیں اور وہ بالکل ڈر گیا اور آگے سے بول بھی نہیں سکا۔اتنے میں حضرت حمزہ وہاں پہنچ گئے اور انہوں نے اپنی کمان زور سے اُس کے سر پر مار کر کہا کمبخت ! اگر تجھے بہادری کا دعوی ہے تو آ اور میرے ساتھ لڑ۔ورنہ شرم کر کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے تو تجھے کچھ نہیں کہا مگر پھر بھی تو نے اُسے گالیاں دیں اور بُرا بھلا کہا۔میں نے اب سارے مکہ والوں کے سامنے تجھے مارا ہے۔اگر تجھ میں ہمت ہے تو میرا مقابلہ کر۔مکہ کے رؤساء جوش میں اٹھے اور انہوں نے مقابلہ کرنا چاہا مگر ابو جہل ایسا گھبرایا کہ وہ کہنے لگا۔تم حمزہ سے کچھ نہ کہو۔مجھ سے ہی آج زیادتی ہوگئی ہے اور قصور میرا ہی ہے۔2 اب دیکھ لو! ایک زمانہ وہ تھا کہ ایک شخص نبوت کا دعوی کرتا ہے اور خدا اُسے یہ کہتا ہے کہ اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وسلم) جا اور دنیا میں میرا نام پھیلا۔لیکن اُس کا حال یہ ہے کہ ایک شخص خود اُس کے گھر کے سامنے اُسے گالیاں دیتا ہے اور وہ اتنا بھی نہیں کر سکتا کہ اسے کوئی جواب دے۔مگر حکم یہ ہے کہ ساری دنیا میں جا کر خدا تعالیٰ کا نام پھیلا۔دیکھو! عہدہ کتنا بڑا دیا گیا ہے اور آپ کی حیثیت کتنی کمز ور اور قابلِ رحم تھی۔تو اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وسلم ) تجھ