خطبات محمود (جلد 38) — Page 216
$1957 216 خطبات محمود جلد نمبر 38 اس سورۃ سے ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر دوزمانے آئے ہیں۔ایک تو وہ زمانہ تھا جب نصر اللہ اور فتح نہیں آئی تھی اور ایک اُس زمانہ کے آنے کی پیشگوئی کی گئی ہے جب نصر اللہ اور فتح آئے گی۔اور وہ نصر اللہ اور فتح اس طرح آئے گی کہ رَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفَوَاجًا گا کہ لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہورہے ہیں۔گویا یہ چیز علامت ہوگی نصر اللہ اور فتح کی۔جب لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے شروع ہو جائیں گے تو مجھے نظر آ جائے گا کہ نصراللہ اور فتح آ گئی ہے۔دوسری بات اس سورۃ میں یہ بتائی گئی ہے کہ ایسے وقت میں تجھے خدا تعالیٰ کی بہت تسبیح کرنی چاہیے اور استغفار سے کام لینا چاہیے۔اور اللہ تعالیٰ سے بخشش اور اُس کی مدد طلب کرنی چاہیے کیونکہ تیرا خدا بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔دنیا میں اگر ہم کسی سے یہ کہیں کہ فلاں شخص بڑا مالدار ہے تو اس میں یہ اشارہ مخفی ہوتا ہے کہ اگر کسی وقت تمہیں مدد کی ضرورت ہو تو اس سے مدد مانگو۔یا اگر کہا جائے کہ فلاں شخص شہر کا بڑا رئیس ہے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اگر شہر میں فساد ہو جائے تو اس کے پاس جاؤ اور اس سے مدد طلب کرو۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کو تو اب کہ کر اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ تمہارا خدا اپنے بندوں کی طرف بار بار فضل کے ساتھ رجوع کرنے والا ہے۔اس لیے جب بھی تمہیں مشکلات پیش آئیں تمہارا کام یہ ہونا چاہیے کہ تم خدا تعالیٰ کی طرف جھکو اور اُس سے سے مدد چا ہو۔وہ اپنے فضل سے تمہاری ہر قسم کی خرابیوں اور نقائص کی اصلاح کے سامان پیدا فرمادے گا۔غرض ان آیات میں اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ تجھ پر پہلے وہ زمانہ گزرا ہے کہ جب فتح اور نصرت تیرے پاس نہیں آئی تھی۔لیکن اب میں تجھے وہ زمانہ دکھاؤں گا جس میں تجھے نصرت اور فتح میسر آجائے گی اور تو دیکھے گا کہ لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہو رہے ہیں۔گویا نصرت اور فتح کا ظاہری نمونہ اشاعتِ مذہب ہوگا۔اور استغفار اور حمد کی قبولیت کا ظاہری نمونہ خدا تعالیٰ کی رحمت کا ظہور ہو گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی غربت کی اور کمزوری کی حالت تو ان واقعات سے ظاہر ہے جو آپ کے دعوی نبوت کے ابتدائی سالوں میں آپ سے پیش آئے۔ایک دفعہ آپ خانہ کعبہ کے قریب صفا پہاڑی پر بیٹھے ہوتے تھے اور کسی فکر میں تھے۔شاید آپ اس فکر میں ہوں کہ خدا تعالیٰ نے میرے سپرد اتنا بڑا کام کیا ہے اسے میں کس طرح انجام دوں گا۔آپ نے اپنا سر جھکایا ہوا تھا کہ اتنے میں آپ کے پاس سے ابو جہل گزرا اور اُس نے آپ