خطبات محمود (جلد 38) — Page 160
$1957 160 خطبات محمود جلد نمبر 38 ہو جائیں گے مگر پھر وہ کامیاب ہو گئے۔غرض دنیا میں ہمیں یہ دونوں باتیں نظر آتی ہیں کہ جب لوگ موت کو بھول جاتے ہیں۔تب بھی وہ خدا سے دور ہو جاتے ہیں اور شیطان سے قریب ہو جاتے ہیں۔اور جب وہ خدا تعالیٰ پر توکل ترک کر دیتے ہیں اور اس کی نصرت اور تائید کے واقعات کو بھول کر اُمید چھوڑ بیٹھتے ہیں تب بھی وہ خدا تعالیٰ سے دور ہو جاتے اور شیطان کے قریب ہو جاتے ہیں۔ورنہ جو شخص خدا تعالیٰ پر سچا تو کل رکھتا ہے ہے اُس کی اُمید بڑی مضبوط ہوا کرتی ہے اور وہ کسی حالت میں بھی مایوسی کو اپنے قریب نہیں آنے دیتا۔دنیا میں خدا تعالیٰ کے ہزاروں فرستادے ایسے گزرے ہیں جنہوں نے انتہائی مشکلات میں بھی خدا تعالیٰ پر اُمید نہیں چھوڑی اور آخر خدا نے انہیں کامیاب کر دیا۔حضرت نظام الدین صاحب اولیاء کا واقعہ ہے کہ ان کے زمانہ کا بادشاہ ان کا مخالف ہو گیا۔وہ اس وقت بہار کی طرف کسی جنگ پر جارہا تھا۔اُس نے کہا کہ جب میں واپس آؤں گا تو انہیں سزا دوں گا۔اُن کے مُریدوں نے یہ بات سنی تو وہ بڑے گھبرائے اور انہوں نے شاہ صاحب سے آ کر کہا کہ حضور! جو لوگ شاہی دربار میں رسوخ رکھتے ہیں اگر اُن کے ذریعہ بادشاہ کے پاس سفارش ہو جائے تو بہتر ہوگا۔آپ نے فرمایا ہنوز دلی دور است“۔ابھی تو اس نے لڑائی کے لیے جانا ہے اور پھر دشمن سے جنگ کرنی ہے۔ابھی سے کسی فکر کی کیا ضرورت ہے۔اس وقت تو وہ دتی میں موجود ہے اور لڑائی کے لیے گیا بھی نہیں۔پھر آٹھ دس دن اور گزر گئے تو مرید پھر گھبرائے ہوئے آپ کے پاس آئے اور کہا حضور ! اب تو آٹھ دس دن گزر چکے ہیں اور بادشاہ لڑائی کے لیے جا چکا ہے اب تو کوئی علاج سوچنا چاہیے۔مگر آپ نے پھر یہی جواب دیا کہ ہنوز دتی دور است“۔آخر جس جنگ پر وہ گیا تھا اُس کے متعلق خبر آ گئی کہ اس میں بادشاہ کو فتح حاصل ہو گئی ہے اور وہ واپس آ رہا ہے۔مُرید پھر گھبرائے ہوئے آپ کے پاس پہنچے اور بادشاہ کی واپسی کی خبر دی۔مگر آپ نے پھر یہی جواب دیا کہ ” ہنوز دتی دور است“۔ابھی تو وہ دو چار سو میل کے فاصلہ پر ہے ابھی کسی فکر کی کیا ضرورت ہے؟ جب وہ آٹھ دس منزل کے فاصلہ پر پہنچ گیا تو وہ پھر آئے اور انہوں نے کہا کہ اب تو وہ بہت قریب آ گیا ہے۔آپ نے فرمایا هنوز دتی دور است۔جب وہ اور زیادہ قریب آ گیا اور دو تین منزل پر پہنچ گیا تو پھر آپ کے مُرید سخت گھبراہٹ کی حالت میں آپ کے پاس پہنچے مگر آپ نے پھر یہی جواب دیا کہ ہنوز دتی دور است“۔