خطبات محمود (جلد 38) — Page 157
$1957 157 خطبات محمود جلد نمبر 38 رویا میں دیکھا کہ شیطان بندر کی شکل میں میرے سامنے بیٹھا ہے اور مجھے کہہ رہا ہے کہ میرا پہلا قدم یہ کی تھا کہ میں ذکر الہی میں مشغول رکھ کر تجھے نمازوں میں سُست کروں اور دوسرا قدم یہ تھا کہ تم سے فرض نماز بھی چھڑا دوں۔مگر تمہارا بھائی چالاک نکلا اور اس نے تمہیں بچالیا۔تو کسی چیز کی زیادتی بھی انسان کے لیے مفید نہیں ہوتی۔نہ ذکر الہی کی زیادتی مفید ہوتی ہے، نہ نمازوں کی زیادتی مفید ہوتی ہے، نہ روزوں کی زیادتی مفید ہوتی اور نہ صدقہ و خیرات کی زیادتی مفید ہوتی ہے۔اگر انسان اِن امور میں حد سے زیادہ نکل جائے تو یہی زیادتی اُس کے لیے مضر ہو جاتی ہے۔پس ان سب باتوں سے انسان کو بچنے کی کوشش کرنی چاہیئے“۔الفضل 25 جولا ئی 1957 ء ) 1 وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُورًا (بنی اسرئیل: 30) 2: صحیح بخاری کتاب الوصايا باب ان يترك و رتْتَهُ اغنیاء خَيْرٌ مِن اَنْ يتكففُوا الناس 3 : صحیح بخاری كتاب التهجد باب ما يكره من التشديد في العبادة۔4 : صحیح بخاری كتاب الصوم باب صوم يوم الفطر میں " نهى رسولُ الله عن صیامھما“ کے الفاظ ہیں۔5 : صحیح بخاری کتاب الصوم باب صوم يوم الجمعة واذا اصبح صائمًا يوم الجمعة - فعلَيهِ أَنْ يُفطر