خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 156

$1957 156 خطبات محمود جلد نمبر 38 گزرنے دے۔غرض میانہ روی ہر حالت میں ایک ضروری چیز ہے۔جسمانیات میں بھی یہی بات چلتی ہے اور اخلاق میں بھی یہی بات چلتی ہے اور روحانیات میں بھی یہی بات چلتی ہے۔بہر حال ایک مومن کے لیے ہر حالت میں اقتصاد کو لوظ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔اگر اُسے مال ملے تب بھی اسے اپنا چی مال نہ تو حد سے زیادہ لگانا چاہیے اور نہ بخل سے کام لینا چاہیے۔اسی طرح نہ حد سے زیادہ نمازیں پڑھنی چاہیں اور نہ نمازوں کو بالکل چھوڑ دینا چاہیے۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں آئے تو آپ نے دیکھا کہ ایک رستی لٹک رہی ہے۔آپ نے حضرت زینب سے جو آپ کی بیوی تھیں اور بڑی عابدہ زاہدہ تھیں دریافت فرمایا کہ یہ رشی کیسی ہے؟ انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! مجھے نمازیں پڑھتے پڑھتے اونگھ آنے لگتی ہے تو میں اس رتی سے سہارا لے لیتی ہوں۔آپ نے فرمایا اسے اتار دو۔یہ کوئی عبادت نہیں۔عبادت اُسی حد تک کرنی چاہیے جب تک کہ دل میں بشاشت قائم رہے۔جب اونگھ آنے لگ جائے تو سمجھ لو کہ اب خدائی فیصلہ یہی ہے کہ اس وقت عبادت کو چھوڑ دیا جائے۔پس یہ رستی اتار دو اور آئندہ اُسی وقت تک نماز پڑھا کرو جب تک تمہارا جسم اسے برداشت کر سکے۔3 اسی طرح دیکھ اور وزہ کتنی اعلیٰ درجہ کی نیکی ہے۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ عید کے دن روزہ رکھنے والا شیطان ہے۔4 اسی طرح آپ نے فرمایا کہ جمعہ کا دن خاص طور پر مقرر کر کے روزہ نہ رکھا کرو۔5 گویا نماز میں بھی شرط رکھ دی ، روزہ میں بھی شرط رکھ دی ، ذکر الہی میں بھی شرط رکھ دی اور ہدایت دے دی کہ ہر کام میں میانہ روی ملحوظ رکھو۔حضرت شاہ ولی اللہ صاحب کی ایک ہمشیرہ تھیں جو بڑی کثرت سے ذکر الہی کرنے والی تھیں۔ایک دن وہ اپنی بہن سے ملنے گئے تو وہ کہنے لگیں بھائی ! اچھا ہو گیا کہ آپ آگئے۔میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتی تھی۔انہوں نے کہا کیا بات ہے؟ وہ کہنے لگیں میں جب نماز پڑھتی ہوں تو مجھے نماز میں اتنا مزہ نہیں آتا جتنا ذکر الہی میں آتا ہے۔وہ کہنے لگے بہن! یہ دوزخ کی طرف پہلا قدم ہے۔اگر تم نے جلدی اپنی اصلاح نہ کی تو شیطان کا دوسرا قدم یہ ہوگا کہ وہ تمہیں ورغلا کر کہے گا کہ نوافل میں فرائض سے بھی زیادہ مزا ہے اور اس طرح آہستہ آہستہ تمہاری فرض نماز بھی چھوٹ جائے گی۔پھر انہوں نے اپنی بہن کو لا حول پڑھنے کی تاکید کی تاکہ شیطانی وساوس دور ہوں۔ایک دن اُن کی بہن ای آکر کہنے لگیں کہ بھائی ! تمہاری بات بالکل ٹھیک نکلی۔میں نے وظیفہ کرنا شروع کیا تو ایک دن میں نے