خطبات محمود (جلد 38) — Page 118
$1957 118 خطبات محمود جلد نمبر 38 بھیجی ہے اور کہا ہے کہ میں نے اپنے کپڑے بیچ کر یہ رقم مہیا کی ہے اس کو کسی مسجد میں لگا دیا جائے۔اس سے میں نے سمجھا کہ مسجدوں کے لیے لوگوں کے حوصلے بہت وسیع ہوتے ہیں۔اگر اس ذریعہ سے جماعت میں تحریک کی جائے تو یقیناً بڑی مدد حاصل ہوسکتی ہے۔بلکہ ہماری جماعت پر دوسرے لوگوں کو بھی اعتبار ہے جس کی وجہ سے اگر احمدی دوست اپنے غیر احمدی احباب سے بھی رقوم حاصل کرنا چاہیں ہی تو وہ ایسا کر سکتے ہیں۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ میں نے غیر ملکوں میں مساجد تعمیر کرنے کی تحریک کی۔جب میں مسجد سے باہر نکلا تو ایک احمدی دوست ایک غیر احمدی کو میرے پاس لائے اور کہا یہ دوست باہر سے آئے ہیں۔انہوں نے آپ کی غیر ملکوں میں مساجد بنانے کی تحریک سنی تھی اور اس کے نتیجہ میں یہ تیرہ سو روپیہ جمع کر کے لائے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں اور بھی دوں گا۔تو اس طرز پر اگر خدا تعالیٰ چاہے تو دوسرے لوگوں کے دلوں میں بھی تحریک پیدا ہو جاتی ہے۔لیکن یہ تحریک انفرادی ہونی چاہیے جماعت کی طرف سے نہیں ہونی چاہیے۔کیونکہ جماعت کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ سر نیچا کر کے کسی اور سے مانگے۔لیکن افراد اگر اپنے غیر احمدی دوستوں سے چاہیں تو وہ بیشک ایسا کر سکتے ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ایک غیر احمدی دوست خود آئے اور ایک بڑی رقم دے گئے کہ اسے کسی مسجد میں لگا دیا جائے۔اس کی ذمہ داری نہ جماعت پر آتی ہے اور نہ اس سے جماعت کا سر نیچا ہوتا ہے۔لیکن اگر دوست جماعت کے نام پر مانگنے لگ جائیں تو یہ غلط طریق ہوگا۔ہماری جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے اتنی بڑی ہے کہ اگر وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھے تو مسجدوں کے تمام کام خود آسانی سے کر سکتی ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہماری جماعت میں خدا تعالیٰ کے فضل سے پندرہ ہیں آدمی ایسے ہیں جو ایک وقت میں پندرہ پندرہ ، بیس بیس ہزار روپیہ دے سکتے ہیں اور اسے آسانی کے ساتھ دو تین سالوں پر پھیلا سکتے ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ اس سے ان کے سرمایہ پر اثر نہیں پڑے گا۔لیکن وہ اسے اس طرح پھیلا سکتے ہیں کہ اس کا اثر کئی سالوں پر پڑ جائے۔ہندوستان میں بھی بعض ایسے احمدی دوست ہیں لیکن وہاں کے لوگوں پر ہندوستان کی حکومت نے ظلم کر کے اتنے بڑے ٹیکس لگا دیئے کہ انہیں اپنی تجارتیں نیلام کرنی پڑیں۔ایک احمدی دوست کے متعلق مجھے معلوم ہوا کہ ان کے ایک بھائی جو اب فوت ہو گئے ہیں ان پر حکومت نے